06-09-2026, 03:34 AM
کیسے ہیں آپ سب؟ آج میں آپ کو اپنی ایک کہانی بتانے جا رہا ہوں۔ امید ہے آپ کو پسند آئے گی۔ میں کوئی پروفیشنل رائٹر نہیں ہوں، اس لیے اگر کہیں کوئی غلطی ہو جائے تو معذرت۔
پہلے میں آپ کو اپنا تعارف کروا دوں۔ میرا نام ثاقب ہے اور میں خوشاب کا رہنے والا ہوں۔ ہم پانچ بھائی ہیں اور ہماری کوئی بہن نہیں ہے۔ بھائیوں کے نام بتانا ضروری نہیں، کیونکہ اس کہانی میں ان کا کوئی خاص کردار نہیں ہے۔ سب سے بڑے بھائی کا میڈیکل اسٹور ہے، ان سے چھوٹے تین بھائی فوج میں ہیں، جبکہ میں ایک پرائیویٹ کمپنی میں جاب کرتا ہوں۔
تو چلتے ہیں اپنی کہانی کی طرف۔
یہ ان دنوں کی بات ہے جب میرا دوسرا بچہ پیدا ہوا تھا اور میری بیوی تین ماہ کے لیے اپنے میکے چلی گئی تھی۔ ہمارا گھر کچھ اس طرح کا ہے کہ ہر کسی کے اپنے الگ کمرے، کچن اور واش روم وغیرہ ہیں، لیکن درمیان میں کوئی خاص دیوار نہیں، اس لیے آپ اسے جوائنٹ فیملی ہی سمجھ سکتے ہیں۔
بیوی کے میکے جانے کی وجہ سے میں کافی عرصے سے تنہا تھا اور اپنی تنہائی مختلف طریقوں سے دور کرنے کی کوشش کرتا تھا۔ میں روز رات کو سیکس ویڈیوز دیکھتا یا اردو سیکس سٹوری پڑھ کے موٹھ مارتا تھا۔
میرے کمرے کے ساتھ ہی جس بھابھی کا کمرہ تھا، اس کا نام فاخرہ ہے۔ آپ کو اس کے بارے میں تھوڑا بتا دوں۔ فخرہ کی عمر اس وقت تقریباً 35 سال تھی، قد درمیانہ تھا اور وہ مجموعی طور پر ایک پرکشش اور خوش مزاج عورت تھی۔ اس کے تین بیٹے تھے اور اس کا شوہر، یعنی میرا بھائی، فوج میں تھا۔
جب سے اس کی شادی ہوئی تھی، کچھ عرصے بعد ہی میرے دل میں اس کے لیے ایک عجیب سی کشش پیدا ہو گئی تھی۔ اس وقت میں خود کنوارا تھا اور نہ جانے کیوں فخرہ مجھے بہت اچھی لگتی تھی۔
فاخرہ ویسے بھی بہت ہنس مکھ تھی۔ ہنسی مذاق کرنا اس کی عادت تھی، شاید یہی وجہ تھی کہ میں آہستہ آہستہ اس کی طرف مزید مائل ہوتا گیا۔ وقت کے ساتھ میں اس کے ساتھ کافی گھل مل گیا تھا۔
وہ اپنے اور گھر کی دوسری عورتوں کے کپڑے وغیرہ سلائی کیا کرتی تھی، اس لیے میں اکثر اس کے پاس بیٹھ کر باتیں کرتا رہتا تھا۔ اس وقت گھر میں میری تینوں بھابھیاں اور والدہ بھی ہوتی تھیں۔ میں ان دنوں انٹر کرنے کے بعد فارغ تھا اور اکثر گھر میں ہی رہتا تھا، اس لیے فاخرہ کے ساتھ کافی وقت گزر جاتا تھا۔
اس وقت فاخرہ کا کوئی بچہ نہیں تھا اور اس کا شوہر، یعنی میرا بھائی، فوج میں ہونے کی وجہ سے عموماً پانچ چھ ماہ بعد گھر آتا تھا۔ اسی وجہ سے فاخرہ بھی میرے ساتھ کافی بے تکلفی اور ہنسی مذاق سے بات کرتی تھی۔
مجھے نہیں معلوم تھا کہ اس وقت فاخرہ کے دل میں میرے لیے کیا جذبات تھے، لیکن میں خود اس کی طرف بہت زیادہ مائل ہو چکا تھا۔ میں اس کے ساتھ سیکس والا تعلق کا تصور کرنے لگا تھا۔
ایک دن میں اور فاخرہ ایک صوفے پر بیٹھے باتیں کر رہے تھے۔
میں نے اس سے پوچھا:
فاخرہ تمہیں سب سے زیادہ کس کام میں دلچسپی ہے؟ میرا مطلب ہے، کون سا کام کر کے تمہیں سب سے زیادہ خوشی ملتی ہے؟"
دراصل میرا مقصد باتوں باتوں میں اسے اپنی طرف متوجہ کرنا تھا۔
فاخرہ نے ہنستے ہوئے کہا:
"یار ثاقب، مجھے فلمیں دیکھنے میں بہت مزہ آتا ہے۔"
میں نے کہا:
"اچھا! کون سی فلمیں دیکھتی ہو؟ میرے سامنے تو تم نے کبھی کوئی فلم نہیں دیکھی۔"
فاخرہ نے جواب دیا:
"یار، مجھے انڈین فلمیں پسند ہیں، خاص طور پر ایسی جن میں پیار اور محبت کی کہانی ہو۔"
ہم باتیں کرتے کرتے ایک دوسرے کے کافی قریب آ گئے تھے میرا سیدھا پٹ فاخرہ کے پٹ کے ساتھ ٹچ کر رہا تھا۔ باتوں کا انداز بھی پہلے سے کچھ مختلف محسوس ہونے لگا تھا اور میرے دل کی دھڑکن جیسے اچانک تیز ہو گئی۔ میں نے آہستہ سے اپنا پٹ فاخرا کے ساتھ جوڑ دیا، لیکن فاخرا نے اس کا
کوئی ردِعمل نہیں دیا۔
میں: فاخرا، تم نے ’’جنت‘‘ مووی دیکھی ہے؟
فاخرا: کون سی؟ وہ جس میں عمران ہاشمی ہے؟
میں: ہاں، فخرا، عمران ہاشمی والی۔
فاخرا نے مجھے غور سے دیکھا اور کہا:
’’تم کتنے بدتمیز ہو! بھلا اُس گندے انسان کی بھی فلمیں دیکھنے والی ہوتی ہیں؟‘‘
میں: کیوں؟ ایسا کیا ہوتا ہے اُس کی فلموں میں؟
فاخرا: ماتھے پر بل لاتے ہوئے وہ بہت گندا ہے۔ اُس کی فلموں میں سب گند ہی ہوتا ہے
۔میں: کیوں یار، اُس میں ایسا تو کچھ نہیں ہوتا، ہاں بس تھوڑا بہت رومانس کرتا ہے۔
میں یہ بتاتا چلوں کہ میں اور فا خرہ کبھی کبھار ایسی باتیں بھی کر جاتے تھے جو عام طور پر بھابھی اور دیور نہیں کرتے۔
فا خرہ: یار، وہ تھوڑا بہت ہوتا ہے کیا؟ وہ تو اتنا زیادہ کرتا ہے کہ بندے کو شرم آ جائے۔
اسی بات کے دوران میں نے اپنا ہاتھ اٹھا کر فا خرہ کے پٹ پر رکھ دیا، لیکن فا خرہ کی طرف سے کوئی ایسا ردِعمل نہیں آیا جس سے مجھے لگتا کہ وہ ناراض ہے یا اسے اس بات پر غصہ آیا ہے۔
فا خرہ تھوڑی سی غیر آرام دہ ضرور ہوئی، لیکن اس نے میرا ہاتھ ہٹایا نہیں اور نہ ہی مجھے منع کیا۔ اس سے مجھے کچھ حوصلہ ملا اور میں نے اپنا ہاتھ وہیں رہنے دیا۔
میں نے کہا:
"فا خرہ یار، اتنا تو آج کل عام ہو گیا ہے، اور تمہیں بھی پتا ہے کہ فلموں میں اس سے کہیں زیادہ دکھاتے ہیں۔"
فا خرہ نے جواب دیا:
"ہاں، لیکن میں ایسی فلمیں نہیں دیکھتی جن میں اس طرح کی گندی باتیں ہوں۔ میں تو عام سی فلمیں دیکھتی ہوں۔"
میں اب اپنے ہاتھ کو تھوڑی حرکت دی اور فا خرہ کے پٹ کے اوپر تھوڑا سا ہاتھ مسلا۔ فا خرہ چپ ہو گئی اور میں نے بھی اب ہاتھ وہیں رکھے رکھا اور تھوڑا تھوڑا اس کے پٹ کو مسلتا رہا۔ اس وقت باقی بھابھی بھی گھر پر تھیں اور امی بھی، اور ہم دونوں روم میں اکیلے تھے۔ اب میرے دل میں یہ ڈر بھی تھا کہ کوئی آ نہ جائے اور دیکھ نہ لے، پر بس میں فا خرہ کے پٹ کو آہستہ آہستہ مسلنے لگا۔ ہم دونوں چپ تھے، نہ وہ مجھے دیکھ رہی تھی اور نہ میں اسے۔ ایک عجیب سی صورتِ حال بنی ہوئی تھی۔ میں آگے بھی بڑھنا چاہ رہا تھا، پر ڈر بھی رہا تھا کہ کچھ غلط نہ ہو جائے۔
پہلے میں آپ کو اپنا تعارف کروا دوں۔ میرا نام ثاقب ہے اور میں خوشاب کا رہنے والا ہوں۔ ہم پانچ بھائی ہیں اور ہماری کوئی بہن نہیں ہے۔ بھائیوں کے نام بتانا ضروری نہیں، کیونکہ اس کہانی میں ان کا کوئی خاص کردار نہیں ہے۔ سب سے بڑے بھائی کا میڈیکل اسٹور ہے، ان سے چھوٹے تین بھائی فوج میں ہیں، جبکہ میں ایک پرائیویٹ کمپنی میں جاب کرتا ہوں۔
تو چلتے ہیں اپنی کہانی کی طرف۔
یہ ان دنوں کی بات ہے جب میرا دوسرا بچہ پیدا ہوا تھا اور میری بیوی تین ماہ کے لیے اپنے میکے چلی گئی تھی۔ ہمارا گھر کچھ اس طرح کا ہے کہ ہر کسی کے اپنے الگ کمرے، کچن اور واش روم وغیرہ ہیں، لیکن درمیان میں کوئی خاص دیوار نہیں، اس لیے آپ اسے جوائنٹ فیملی ہی سمجھ سکتے ہیں۔
بیوی کے میکے جانے کی وجہ سے میں کافی عرصے سے تنہا تھا اور اپنی تنہائی مختلف طریقوں سے دور کرنے کی کوشش کرتا تھا۔ میں روز رات کو سیکس ویڈیوز دیکھتا یا اردو سیکس سٹوری پڑھ کے موٹھ مارتا تھا۔
میرے کمرے کے ساتھ ہی جس بھابھی کا کمرہ تھا، اس کا نام فاخرہ ہے۔ آپ کو اس کے بارے میں تھوڑا بتا دوں۔ فخرہ کی عمر اس وقت تقریباً 35 سال تھی، قد درمیانہ تھا اور وہ مجموعی طور پر ایک پرکشش اور خوش مزاج عورت تھی۔ اس کے تین بیٹے تھے اور اس کا شوہر، یعنی میرا بھائی، فوج میں تھا۔
جب سے اس کی شادی ہوئی تھی، کچھ عرصے بعد ہی میرے دل میں اس کے لیے ایک عجیب سی کشش پیدا ہو گئی تھی۔ اس وقت میں خود کنوارا تھا اور نہ جانے کیوں فخرہ مجھے بہت اچھی لگتی تھی۔
فاخرہ ویسے بھی بہت ہنس مکھ تھی۔ ہنسی مذاق کرنا اس کی عادت تھی، شاید یہی وجہ تھی کہ میں آہستہ آہستہ اس کی طرف مزید مائل ہوتا گیا۔ وقت کے ساتھ میں اس کے ساتھ کافی گھل مل گیا تھا۔
وہ اپنے اور گھر کی دوسری عورتوں کے کپڑے وغیرہ سلائی کیا کرتی تھی، اس لیے میں اکثر اس کے پاس بیٹھ کر باتیں کرتا رہتا تھا۔ اس وقت گھر میں میری تینوں بھابھیاں اور والدہ بھی ہوتی تھیں۔ میں ان دنوں انٹر کرنے کے بعد فارغ تھا اور اکثر گھر میں ہی رہتا تھا، اس لیے فاخرہ کے ساتھ کافی وقت گزر جاتا تھا۔
اس وقت فاخرہ کا کوئی بچہ نہیں تھا اور اس کا شوہر، یعنی میرا بھائی، فوج میں ہونے کی وجہ سے عموماً پانچ چھ ماہ بعد گھر آتا تھا۔ اسی وجہ سے فاخرہ بھی میرے ساتھ کافی بے تکلفی اور ہنسی مذاق سے بات کرتی تھی۔
مجھے نہیں معلوم تھا کہ اس وقت فاخرہ کے دل میں میرے لیے کیا جذبات تھے، لیکن میں خود اس کی طرف بہت زیادہ مائل ہو چکا تھا۔ میں اس کے ساتھ سیکس والا تعلق کا تصور کرنے لگا تھا۔
ایک دن میں اور فاخرہ ایک صوفے پر بیٹھے باتیں کر رہے تھے۔
میں نے اس سے پوچھا:
فاخرہ تمہیں سب سے زیادہ کس کام میں دلچسپی ہے؟ میرا مطلب ہے، کون سا کام کر کے تمہیں سب سے زیادہ خوشی ملتی ہے؟"
دراصل میرا مقصد باتوں باتوں میں اسے اپنی طرف متوجہ کرنا تھا۔
فاخرہ نے ہنستے ہوئے کہا:
"یار ثاقب، مجھے فلمیں دیکھنے میں بہت مزہ آتا ہے۔"
میں نے کہا:
"اچھا! کون سی فلمیں دیکھتی ہو؟ میرے سامنے تو تم نے کبھی کوئی فلم نہیں دیکھی۔"
فاخرہ نے جواب دیا:
"یار، مجھے انڈین فلمیں پسند ہیں، خاص طور پر ایسی جن میں پیار اور محبت کی کہانی ہو۔"
ہم باتیں کرتے کرتے ایک دوسرے کے کافی قریب آ گئے تھے میرا سیدھا پٹ فاخرہ کے پٹ کے ساتھ ٹچ کر رہا تھا۔ باتوں کا انداز بھی پہلے سے کچھ مختلف محسوس ہونے لگا تھا اور میرے دل کی دھڑکن جیسے اچانک تیز ہو گئی۔ میں نے آہستہ سے اپنا پٹ فاخرا کے ساتھ جوڑ دیا، لیکن فاخرا نے اس کا
کوئی ردِعمل نہیں دیا۔
میں: فاخرا، تم نے ’’جنت‘‘ مووی دیکھی ہے؟
فاخرا: کون سی؟ وہ جس میں عمران ہاشمی ہے؟
میں: ہاں، فخرا، عمران ہاشمی والی۔
فاخرا نے مجھے غور سے دیکھا اور کہا:
’’تم کتنے بدتمیز ہو! بھلا اُس گندے انسان کی بھی فلمیں دیکھنے والی ہوتی ہیں؟‘‘
میں: کیوں؟ ایسا کیا ہوتا ہے اُس کی فلموں میں؟
فاخرا: ماتھے پر بل لاتے ہوئے وہ بہت گندا ہے۔ اُس کی فلموں میں سب گند ہی ہوتا ہے
۔میں: کیوں یار، اُس میں ایسا تو کچھ نہیں ہوتا، ہاں بس تھوڑا بہت رومانس کرتا ہے۔
میں یہ بتاتا چلوں کہ میں اور فا خرہ کبھی کبھار ایسی باتیں بھی کر جاتے تھے جو عام طور پر بھابھی اور دیور نہیں کرتے۔
فا خرہ: یار، وہ تھوڑا بہت ہوتا ہے کیا؟ وہ تو اتنا زیادہ کرتا ہے کہ بندے کو شرم آ جائے۔
اسی بات کے دوران میں نے اپنا ہاتھ اٹھا کر فا خرہ کے پٹ پر رکھ دیا، لیکن فا خرہ کی طرف سے کوئی ایسا ردِعمل نہیں آیا جس سے مجھے لگتا کہ وہ ناراض ہے یا اسے اس بات پر غصہ آیا ہے۔
فا خرہ تھوڑی سی غیر آرام دہ ضرور ہوئی، لیکن اس نے میرا ہاتھ ہٹایا نہیں اور نہ ہی مجھے منع کیا۔ اس سے مجھے کچھ حوصلہ ملا اور میں نے اپنا ہاتھ وہیں رہنے دیا۔
میں نے کہا:
"فا خرہ یار، اتنا تو آج کل عام ہو گیا ہے، اور تمہیں بھی پتا ہے کہ فلموں میں اس سے کہیں زیادہ دکھاتے ہیں۔"
فا خرہ نے جواب دیا:
"ہاں، لیکن میں ایسی فلمیں نہیں دیکھتی جن میں اس طرح کی گندی باتیں ہوں۔ میں تو عام سی فلمیں دیکھتی ہوں۔"
میں اب اپنے ہاتھ کو تھوڑی حرکت دی اور فا خرہ کے پٹ کے اوپر تھوڑا سا ہاتھ مسلا۔ فا خرہ چپ ہو گئی اور میں نے بھی اب ہاتھ وہیں رکھے رکھا اور تھوڑا تھوڑا اس کے پٹ کو مسلتا رہا۔ اس وقت باقی بھابھی بھی گھر پر تھیں اور امی بھی، اور ہم دونوں روم میں اکیلے تھے۔ اب میرے دل میں یہ ڈر بھی تھا کہ کوئی آ نہ جائے اور دیکھ نہ لے، پر بس میں فا خرہ کے پٹ کو آہستہ آہستہ مسلنے لگا۔ ہم دونوں چپ تھے، نہ وہ مجھے دیکھ رہی تھی اور نہ میں اسے۔ ایک عجیب سی صورتِ حال بنی ہوئی تھی۔ میں آگے بھی بڑھنا چاہ رہا تھا، پر ڈر بھی رہا تھا کہ کچھ غلط نہ ہو جائے۔


![[+]](https://xossipy.com/themes/sharepoint/collapse_collapsed.png)