Thread Rating:
  • 0 Vote(s) - 0 Average
  • 1
  • 2
  • 3
  • 4
  • 5
Adultery ہندو لن کی پیاس
#1
ہندو لن کی پیاس

میرا نام عمران ہے.... میری عمر 30 سال ہے میں راولپنڈی پاکستان میں رہتا ہوں....میرے گھر میں میرے علاوہ میری 55 سال کی امی رخسانہ بیگم, 28 سالہ بیوی فوزیہ اور 24 سال کی جوان بہن شازیہ رہتے ہیں۔

شادی سے پہلے اور شادی کے بعد مجھے فحش فلمیں دیکھنے کا بہت شوق تھا۔ جس میں ہر طرح کا سیکس یعنی فیملی انسیسٹ، جوڑے کی تبدیلی، بیوی کی شراکت جیسے موضوعات مجھے بے حد پسند آتے تھے۔

شادی کے بعد میں نے اپنی بیوی فوزیہ کو بھی اسی طرح کی فلمیں دیکھنے کا چسکا لگا دیا۔

اسی طرح کی فلمیں دیکھنے کے بعد میں اپنی بیوی سے کردار ادا کرتا۔ جس میں میں اپنی بیوی کو غیر مردوں سے چدواتے دیکھ کر مٹھ لگاتا اور مزے کرتا

ایک دن میں اور فوزیہ نے ایک دیسی فلم دیکھی۔ جس میں ایک انڈین ہندو مرد اپنے انکٹ کافر لورے سے ایک مسلم پاکستانی عورت کی پاکیزہ چوت کو چودنے میں مصروف تھا۔

اس طرح کا انڈین ہندو مرد کی مسلم پاکستانی عورت کی چدائی والا موضوع ہم دونوں میاں بیوی کے لیے تابو اور نیا تھا۔

جس کی وجہ سے اس فلم کو دیکھتے ہی ہم دونوں میاں بیوی کے جسموں میں ایک نئی قسم کی آگ لگ گئی۔

اس فلم کو دیکھتے وقت اس ہندو مرد کے کافر انکٹ لورے کو دیکھ کر فوزیہ کی چوت پانی پانی ہونے لگی۔

جب کہ ایک مسلم پاکستانی عورت کی پاکیزہ چوت کو ایک کافر کے لورے سے اپنی نظروں کے سامنے چدواتے دیکھ کر میرا لورا بھی مزے کے مارے اکڑ کر پتھر جیسا سخت ہو گیا۔

وہ فلم دیکھنے کے بعد اس رات میں اور فوزیہ نے بھی ایک ہندو اور مسلم مرد اور عورت کا کردار ادا کرتے ہوئے آپس میں چدائی کی۔ تو ہم دونوں سیکس کے اس نئے مزے سے پاگل ہی ہو گئے۔

اس کے بعد ہم دونوں نے نیٹ پر اس موضوع کے بارے میں مواد تلاش کرنا شروع کیا۔

تو پتہ چلا کہ حجاب میں مسلم عورت اور کافر ہندو مرد کی چدائی پر مبنی بہت ساری کہانیاں اور فلمیں انٹرنیٹ پر نہ صرف موجود ہیں۔

جس کی وجہ سے ہم دونوں میاں بیوی اس موضوع پر آپس میں بات کرنے لگے۔ اور میری بیوی فوزیہ بھی اب کافر مرد سے چدائی کرنےکے فرضی کردار ادا سے نکل کر حقیقت میں کسی اصل ہندو مرد کےانکٹ لورے سے چدوانے کے لیے مجھ سے فرمائش کرنے لگی۔
Like Reply
Do not mention / post any under age /rape content. If found Please use REPORT button.
#2
میں اب خود بھی چاہتا تھا۔ کہ میں اپنی بیوی کو کسی ہندو مرد کے انکٹ لورے سے چدواتے دیکھوں۔

مگر اس میں مسئلہ یہ تھا۔ کہ ایک تو میرے پاس اتنے فالتو پیسے نہیں تھے کہ میں بیوی کے ساتھ دبئی وغیرہ جا کر بیوی کو کسی ہندو مرد سے چدوا لیتا۔

اور دوسرا اپنے گھر میں امی اور بہن کی موجودگی میں کسی غیر مرد کے ساتھ بیوی کے جسمانی تعلقات بنوانا ممکن نہیں ہو سکتا تھا۔

اسی طرح کچھ مہینے اور گزرے۔ تو ایک رات میں اور فوزیہ ایک فحش فلم دیکھنے لگے۔

جس میں ایک عمر رسیدہ عورت ایک جوان عمر کے لڑکے سے چدائی کر رہی تھی۔

اس عورت کی عمر 50، 55 سال کی تھی۔ اس کا جسم بہت بڑا ہوا تھا۔ ممے بہت بڑے بڑے اور گانڈ بہت چوڑی تھی۔ جب کہ لڑکا ایک 25، 30 سال کی عمر کا تھا۔ اس کا جسم مضبوط اور لورا بہت بڑا اور انکٹ تھا۔ اور وہ دونوں بہت مست اور زور دار چدائی کر رہے تھے۔

عمران دیکھو تو سہی، اس عورت کی عمر اور جسم بالکل تمہاری امی کی طرح لگ رہا ہے، ٹی وی پر چلتی اس فلم کو دیکھ کر تو ایسے لگتا ہے کہ میری نظروں کے سامنے میری ساس اپنے کسی جوان عاشق سے اپنی چوت چدوا رہی ہیں،

کمرے کے بیڈ کے سامنے پڑے ٹی وی کی سکرین پر چلتی فحش فلم میں بالغ عورت اور جوان مرد کی چدائی دیکھتے کے ساتھ ساتھ فوزیہ نے میرے ننگے لن پر اپنا ہاتھ چلاتے ہوئے جب یہ بات کہی۔

تو فلم کے گرم منظر اور اپنی بیوی کے منہ سے اپنی امی کے بارے میں کہی گئی بات سنتے ہی میرے لن میں ایک جوش آیا اور میرا لن مزید سخت ہو گیا۔

افففف تم کہہ تو صحیح رہی ہو، واقعی اس عورت کا جسم تو بالکل امی کی طرح لگ رہا ہے اپنی بیوی کے منہ سے اتنی گرم بات سنتے ہی میں نے جوان لڑکے کے جسم کے نیچے لیٹ کر چدواتی عورت کے جسم کا بغور جائزہ لیا۔ اور اپنے لن پر چلتے بیوی کے ہاتھ کے مزے سے سسکتے ہوئے جواب دیا۔

تمہاری امی کو بیوہ ہوئے اتنا وقت ہو گیا ہے۔ تو یقیناً ان کی چوت بھی لن کے لیے بہت تڑپ رہی ہوگی، اور اگر ان کو کوئی ایسا جوان ہندو مرد ملے جو تمہاری نظروں کے سامنے تمہاری امی کی پاکیزہ چوت کو اپنے جوان انکٹ لورے سے چودے، تو کیا تم امی کو اس جوان لڑکے سے چدواتے دیکھ کر مزے لے کر مٹھ لگاؤ گے عمران؟
سکرین پر نظریں جمائے ہوئے فوزیہ نے ایک بار میرے کان میں سرگوشی کی۔

تو میں مزے سے بے حال ہوتے ہوئے بستر سے ایک دم اٹھا اور اپنی بیوی کو بستر پر سیدھا لٹا کر اس کی پانی پانی ہوتی چوت میں اپنا سخت لورا ڈالتے ہوئے چلّا اٹھا ہاں، میں یقیناً ایک ہندو مرد کے جوان انکٹ لورے کو اپنی امی کی پاکیزہ چوت میں داخل ہوتے اور امی کو اپنے ہندو یار کے لورے سے چدوا کر مزے لیتے دیکھنا چاہوں گا میری جان
میں نے یہ کہتے ہوئے اپنی بیوی کو زور دار جھٹکے مارے اور کچھ دیر میں ہی اپنی بیوی کی گرم پھدی میں انزال ہو گیا۔

اس واقعے کے کئی دن بعد تک میں اور فوزیہ نے اس موضوع پر کبھی بات نہیں کی۔

مگر اپنی بیوی فوزیہ کی امی کے متعلق کی گئی بات سن کر مجھے اتنا مزہ اور جوش آیا تھا کہ میں نے اس کے بعد اپنی بیوی فوزیہ کو بتائے بغیر ہی ٹویٹر پر ایک دو جوان ہندو لڑکوں سے مسلمان عورتوں کو چودنے کے موضوع پر چیٹ شروع کر دی تھی۔ جو کہ میچور عمر اور بھاری جسم رکھنے والی مسلمان عورتوں سے چودائی کرنے کی خواہش رکھتے تھے۔

پھر تقریباً ایک مہینہ بعد ایک رات چودائی کے دوران فوزیہ نے مجھے کہا، "پھر امی کو کسی جوان ہندو لڑکے سے چدوائی کے متعلق کیا سوچا ہے تم نے عمران؟"

اگر یہ کام اتنا آسان ہوتا تو میں امی کا نہ صیح تمیں تو اب تک کسی ہندو مرد کے کافر لن سے چدوا چکا ہوتا میری جان

اپنی بیوی کی بات کا جواب دیتے ہوے میں بولا

مگر اس بات کے بعد میں نے سوشل میڈیا گروپس میں موجود انڈین مردوں سے اپنی امی کو چدوانے کا خیال ذہین میں رکھ کے گپ شپ لگانا شروع کر دی
Like Reply
#3
پھر تقریباً ایک ماہ بعد ایک رات چدائی کے دوران فوزیہ نے مجھے دوبارہ کہا

“ پھر امی کو کسی جوان ہندو لڑکے سے چدوانے کے متعلق کیا سوچا ہے تم نے عمران”

تمہیں بڑی جلدی ہے میری امی کی چوت میں جوان ہندو لن ڈلوانے کی میری جان

اپنی بیوی کی بات سن کر میں نے زور کا گھسہ مارتے ہوئے کہا

ہاں مجھے جلدی ہے وہ اس لیے کہ میری چوت میں ہندو مرد کے لن کا راستہ تمہاری امی کی پھدی سے ہو کر جاتا ہے، اگر تمہاری امی کی پھد ی میں کوئی جوان ہندو لورا اک دفعہ چلا گیا، تو مجھے بھی کسی ہندو مرد سے اپنی پاکیزہ چوت چدوانے میں کوئی مسئلہ نہیں ہو گا میری جان، میری بات سن کر فوزیہ نے بستر سے اپنی گانڈ اوپر اٹھائی. اور اپنی گرم چوت میں میرا لورا لیتے ہوئے مجھے مزے سے جواب دیا

ہاں میں ابھی خود بھی چاہتا ہوں کہ اب فینٹسی سے بات آگے بڑھا کر اس کو حقیقت کا روپ دوں. اور امی کی بیوہ پھدی میں کسی جوان لن کو ڈال کر ان کی چوت کو پھر سے آباد کر دوں اور اس کے ساتھ ساتھ تمہاری پھدی میں بھی کسی ہندو مرد کے موٹے لوڑے کو جاتا دیکھوں" فوزیہ کی بات کو سن کر میں نے ابھی اپنی فینٹسی کو عملی جامہ پہنانے کا سوچ لیا اور اپنی بیوی کی چوت کو زور زور سے چودتے ہوئے پھدی میں فارغ ہو گیا

دوسرے دن میں نے امی کے لیے مارکیٹ سے یوزڈ آئی فون لیا اور اس میں واٹس ایپ ڈاؤن لوڈ کیا. اور امی کے واٹس ایپ پروفائل پر امی کی ایک ایسی فوٹو لگا دی

جو میں نے چند دن پہلے ایک فیملی ویڈنگ کے موقع پر لی تھی. جس میں امی کا دوپٹہ اس کے گلے میں تھا. جس وجہ سے ان کے بھاری ممے اور گانڈ کے ہپس ان کی ٹائٹ شلوار قمیض میں سے صاف چھلکتے نظر آ رہے تھے

جاب سے گھر آتے ہی میں نے امی کے ہاتھ سے ان کا پرانا فون لیا. جو کہ ایک عام سا پرانا فون تھا. اور انہیں نیا آئی فون دے دیا

میں نے امی کو فیس بک اور ٹویٹر کا اکاؤنٹ بھی بنا دیا اور واٹس ایپ سمیت سب ایپس کے استعمال بھی سمجھا دیا. امی نیا سمارٹ فون لے کر بہت خوش ہوئیں

اور انہوں نے مجھے گلے لگا کر میرا شکریہ ادا کیا

اس رات فوزیہ اپنی امی کے گھر رات گزارنے گئی تھی. تو مجھے ٹویٹر پر بنے گئے اپنے ایک ہندو دوست سے بات کرنے کا موقع مل گیا

اس ہندو لڑکے کا نام سمیر چوہان تھا. جو پیدا اور پلا بڑھا تو انڈیا میں ہی تھا

مگر جوان ہونے کے بعد کینیڈا شفٹ ہو گیا تھا اور اس کی کینیڈا کی سٹیزن شپ لے لی تھی. اور اب جاب کے سلسلے میں ایک سال سے دبئی میں رہتا تھا

اس رات واٹس ایپ پر بات کرتے کرتے میں نے سمیر سے پوچھا کہ اسے کتنی عمر کی عورتیں چودنے کا شوق ہے

"مجھے 40 سے 60 سال کی عورتوں کا بھرا ہوا جسم پاگل کر دیتا ہے" میری بات کا جواب دیتے ہوئے سمیر بولا

اوکے ٹھیک ہے، یہ چیک کرو اگر یہ عورت تمہیں مل جائے تو کیا کرو گے اس کے ساتھ

سمیر کی بات سن کر میں نے اسے اپنی امی کی مختلف پوزز میں 3 4 ایسی فوٹوز واٹس ایپ کر دیں، جن میں امی کا چہرہ نہیں نظر آ رہا تھا. مگر ٹائٹ شلوار قمیض میں امی کا موٹا بھاری جسم خاص طور پر امی کے موٹے ممے واضح نظر آ رہے تھے

"افففففففف کیا مست جسم والی آنٹی ہے یہ، کیا بھاری ممے اور چوڑی گانڈ ہے، اگر مجھے اس عورت کا پاکیزہ جسم چودنے کے لیے مل جائے تو میں اسے چود چود کر پاگل کر دوں" میری امی کی بنا چہرے والی فوٹو دیکھتے ہی سمیر مزے سے سسکتے ہوئے بولا. تو اپنی امی کے جسم کے بارے میں کسی غیر مرد کے منہ سے پہلی بار ایسے الفاظ سنتے ہی میرا لوڑا بھی شلوار میں جوش مار کر اٹھ کھڑا ہوا

تمہارا لوڑا کھڑا ہوا اس پاکیزہ جسم کے گداز ابھار دیکھ کر سمیر" میں نے اپنی شلوار میں کھڑے اپنے لن کو ہاتھ میں پکڑ کر مزے سے سسکتے ہوئے کہا

"ہاں یار میرا ہندو لوڑا اس پاکیزہ جسم کے لیے تن کر کھڑا ہو گیا ہے" میری بات کے جواب میں سمیر نے سسکتے ہوئے جواب دیا


"کیا میں تمہارا ہندو ان کٹ لوڑا ویڈیو چیٹ پر لائیو دیکھ سکتا ہوں، کیوں کہ اگر مجھے تمہارا لوڑا پسند آیا تو میں تمہیں اس بھرے ہوئے جسم کی عورت کی پاکیزہ چوت دلوا سکتا ہوں سمیر" میں نے سمیر کی بات سن کر اس سے فرمائش کی.تو دوسرے ہی لمحے سمیر نے واٹس ایپ کی ویڈیو کالنگ آن کر دی۔

ویڈیو آن ہوتے ہی جیسے ہی میری نظر اپنے فون کی سکرین پر پڑی. تو مجھے سکرین میں اپنے سامنے سمیر کھڑا نظر آیا. وہ ایک 25 26 سال کا اونچا لمبے قد اور مضبوط جسم والا سمارٹ لڑکا تھا. جو اس وقت پورا ننگا کھڑا تھا اور اس کا موٹا سخت تگڑا ان کٹ لورا میری نظروں کے سامنے سکرین پر لہرا رہا تھا۔

سمیر کا لورا 9 8 انچ کا تھا. جو دیکھنے میں کافی موٹا چوٹرانظر آ رہا تھا اور سب سے بڑی بات کہ سمیر کا لورا چونکہ ان کٹ تھا. جس کی وجہ سے اس کے لن کی ٹوپی پر ساری چمڑی جمع ہوئی تھی. اس وجہ سے سمیر کا لن کا ٹوپا اور بھی بڑا اور چوڑا نظر آ رہا تھا۔


"اففففففففففف کیا شاندار اور تگڑا لورا ہے تمہارا، جس چوت میں جاتا ہو گا، وہ تو تمہارے اس شاندار لن کی غلام بن جاتی ہو گی"

سمیر کا لن دیکھ کر میرا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا۔
اور میں سوچ میں پڑ گیا کہ اگر سمیر کا یہ ان کٹ لورا واقعی ہی ایک دفعہ میری امی کی پاکیزہ پھدی میں چلا گیا۔ تو امی نے اس ان کٹ لورے کا غلام بن جانا ہے پھر۔


سمیر تم نے اپنے اس لورے سے ابھی تک کوئی مسلم پھدی چودی ہے کیا" سمیر کے شاندار لن کو فون کی سکرین پر دیکھ کر میں نے پوچھا۔

جی انڈیا اور دبئی میں جوان مسلم چوت تو کافی چودی ہیں، مگر کوئی پاکستانی عورت اور خاص طور پر اس طرح کی بھرے ہوئے جسم والی میچور پاکستانی عورت کی پھدی کا ابھی تک مزہ نہیں چکھا." سمیر نے اپنے ہیرے ہوئے موٹے لمبے ان کٹ لورے کو ہاتھ سے مسلتے ہوئے میری بات کا جواب دیا۔

ٹھیک ہے میں کوشش کروں گا کہ تمہاری اس خواہش کو پورا کروں یار" یہ بات کہتے ہی میں نے سمیر کو خدا حافظ کہہ دیا۔
Like Reply
#4
دوسرے دن جب میں سو کر اٹھا تو واٹس ایپ پر سمیر کے 3،4 میسجز اور مس کالز دیکھ کر فوراً فون کال ملا دی۔


کال کی بیل بجتے ہی سمیر نے ویڈیو کال آن کی. تو میں نے دیکھا کہ سمیر نے ایک ہاتھ میں میری امی کی فوٹو پکڑی ہوئی تھی. اور دوسرے ہاتھ سے وہ اپنا لورا ہاتھ میں لیے مٹھ لگا رہا تھا۔

یار مجھے اس عورت کے مست جسم نے پاگل کر دیا ہے، اس لیے جتنی جلدی ہو سکے مجھے اس عورت کی پھدی کا مزہ لینا ہے چاہیے کچھ بھی ہو جائے" مجھے ویڈیو کال پر دیکھ کر سمیر نے اپنے لن کو ہاتھ سے مسلتے ہوئے کہا۔

"تو اس کا مطلب ہے، میری امی کے جاز جسم نے تمہارے لن کو پاگل کر دیا ہے" سمیر کی بات سنتے ہی میں نے مسکراتے ہوئے کہا۔

اففف کیا واقعی ہی یہ عورت آپ کی امی ہیں، اگر ایسا ہے تو آپ نے کیوں مجھے اپنی ہی امی کا جسم دکھا کر ان کی پھدی کے لیے پاگل کر دیا ہے دوست" میری بات سنتے ہی لن پر چلتے سمیر کے ہاتھ ایک دم رک گئے اور وہ گھبرا کر ایک دم بولا۔

سمیر کے سوال کے جواب میں جب میں نے اسے ساری بات بتائی تو وہ مست ہو کر اپنے لن کو مسلتے ہوئے بولا۔ "یار تم فکر نہ کرو میں ایک دن تمہارے سامنے تمہاری امی کی پاکیزہ چوت میں اپنا ان کٹ کافر لورا ڈال کر چودوں گا اور ان کی پھدی کو اپنے لن کے پانی سے سیراب کر کے ان کی بیوہ چوت کو پھر سے سہاگن بنا دوں گا

سمیر کی یہ بات سنتے ہی میرا لورا میری شلوار میں ہڑ گیا اور اس کے بعد ہم دونوں میری امی کے موٹے بھاری مموں، چوڑی بڑی گانڈ اور ان کی گرم پیاسی چوت کے بارے میں باتیں کرتے ہوئے اپنے اپنے لن کا پانی نکال کر فارغ ہو گئے

دوسرے دن میں نے امی کا ایک فیس بک اکاؤنٹ بنایا اور اس میں امی کی چند ایسی فوٹوز اپلوڈ کر دیں۔

جو انہوں نے کچھ فیملی ویڈنگ یا کسی کے گھر دعوت کے موقع پر کھینچی تھیں۔

ان سب فوٹوز میں امی تھوڑی بنی سنوری تھیں اور کپڑے بھی کافی اچھے اور تھوڑے ٹائٹ قسم کے پہنے تھے۔ جن میں امی کے بھاری گداز جسم کے سارے حصے خاص طور پر بڑے بڑے ممے بہت نمایاں نظر آ رہے تھے۔

امی کا فیس بک اکاؤنٹ بنا کر میں نے اکاؤنٹ کا لنک سمیر کو سینڈ کیا اور پھر امی کو بھی ان کا نیا ایف بی اکاؤنٹ پیج دکھایا۔

امی کو ان کا اکاؤنٹ دیکھنے کے ساتھ ساتھ میں نے انہیں ایف بی کے میسنجر کو استعمال کرنا بھی سمجھا دیا۔

امی تو پہلے ہی آئی فون لینے کی وجہ سے کافی خوش تھیں۔ اور اوپر سے واٹس ایپ کے ذریعے چیٹ اور میسجز شیئرنگ اور ایف بی پر ڈیفرنٹ ویڈیوز اور پوسٹ دیکھنے کی وجہ سے اب ان کا کافی ٹائم سوشل میڈیا استعمال کرنے میں گزرنے لگا۔

اس بات کے ایک ہفتے بعد ایک رات جب امی اپنی کمرے میں بیٹھی اپنے فون پر کچھ ویڈیو واچ کر رہی تھیں۔ تو میں نے پلان کے مطابق سمیر کو ان کی ایک ایف بی فوٹو پر تعریفی کمنٹس کرنے کا کہا۔

"ہائے محترمہ میں آپ کو نہیں جانتا۔ مگر ابھی فیس بک پر سرچ کے دوران آپ کی یہ فوٹو میری نظر سے گزری ہے۔ تو کہے بغیر نہیں رہ سکا کہ لگتا ہے آپ کو قدرت نے بہت فرصت میں بنایا ہے، یہ ہی وجہ ہے کہ آپ اس عمر میں بھی نہ صرف بہت گریسفل ہیں بلکہ ابھی بھی جوان لڑکیوں کو بھی پیچھے چھوڑتی ہیں" سمیر نے امی کی ایک فوٹو پر کمنٹس کیا۔

تو اپنے بارے میں یہ کمنٹ پڑھ کر امی ایک دم حیران رہ گئیں اور ان کا دل ایک دم سے دھڑکنے لگا۔ کہ یہ کون انسان ہے۔ جس نے ان کے بارے میں اس طرح کا کمنٹ کیا ہے۔

امی نے کمنٹ کا کوئی جواب تو نہ دیا۔ مگر انہوں نے کچھ دیر بعد پھر سے کمنٹ کو پڑھا۔ تو اتنے ٹائم بعد اپنے شوہر کے علاوہ کسی دوسرے مرد سے اپنی تعریف سن کر نہ جانے کیوں امی کو اچھا لگا۔ اور وہ ایک دم بیڈ سے اٹھ کر کمرے میں لگے شیشے میں اپنے جسم کا جائزہ لینے لگیں۔

افف دیکھو میں بھی کتنی پاگل ہوں کہ ایک انجان مرد کا کمنٹ پڑھ کر اپنے آپ کو شیشے میں دیکھنے لگی ہوں" امی کو اپنی اس حرکت پر ہنسی تو آئی۔

مگر حقیقت یہ تھی۔ کہ ہر عورت تعریف کی بھوکی ہوتی ہے۔

اس لیے جب امی نے بھی اپنے بارے میں ایک عرصے بعد اتنے تعریفی کمنٹس پڑھے۔ تو انہیں پڑھ کر مزا آیا تھا

مگر اس کے باوجود انہوں نے سمیر کو کوئی ریپلائی نہ کیا۔
Like Reply
#5
اس بات کے دو دن بعد ہی فیملی میں ایک شادی تھی۔ جس میں ہم سب شامل تھے

چونکہ میں اپنی بیوی فوزیہ کو بھی اس انڈین ہندو لڑکے سمیر اور اپنے درمیان امی کے بارے میں ہونے والی ساری کارروائی کی تفصیل بتا دی تھی۔

اس لیے میں فوزیہ کو کہا کہ ایک تو وہ امی کو تھوڑے باریک قسم کا شلوار قمیض پہننے کے لیے دے۔ دوسرا شادی کے فنکشن کے دوران امی کی فوٹوز ایسے انداز میں کھینچے جس انداز میں سے ان کا جسم تھوڑا واضح نظر آئے۔

فوزیہ نے میرے کہنے کے مطابق مجھے امی کی فوٹو کھینچ کر دکھائیں۔ تو پتلے شلوار قمیض میں امی کے بھرے ہوئے گداز جسم کو دیکھ کر میرا لن بھی ایک دم سے کھڑا ہو گیا۔ اور میں فوزیہ کے سامنے ہی اپنے لن کو ہاتھ سے مسلتے ہوئے بولا "افف کیا مست جسم ہے امی کا، دل کرتا ہے اسے ابھی پکڑ کر چود دوں"

"واہ آج تو میرا شوہر اتنا گرم ہو رہا ہے، کہ اپنی ہی ماں کو چود کر، میری ساس کو میری ہی سوتن بننے کا سوچنے لگا ہے اب" فوزیہ نے جب امی کی فوٹو دیکھ کر گرم ہوتے دیکھا۔ تو میری شلوار میں کھڑے لن کو اپنے ہاتھ میں لے کر میری مٹھ لگاتے ہوئے بولی۔ تو میں مزے سے سسکتے ہوئے اس کے ہونٹوں کو چومنے لگا۔

کچھ دیر بعد میں نے امی کی تازہ فوٹوز ایف بی پر اپلوڈ کیں اور سمیر کو کہا کہ وہ ان پر گرم کمنٹس کر دے۔

اس رات جب امی اپنے روم میں جا کر بیڈ پر لیٹیں تو انہوں نے ایف بی پر پوسٹ اپنی فوٹوز پر سمیر کے کمنٹس پڑھے۔ جن میں لکھا تھا۔ "ہائے آپ کے اس دلکش حسن اور مست بدن نے تو میری راتوں کی نیند ہی اڑا دی ہے،""کاش آپ مجھے ایک موقع دیں تو میں آپ کو بتا سکوں کہ میں آپ کا کتنا دیوانہ ہوں."

اپنے بارے میں سمیر کے تازہ کمنٹس پڑھ کر امی نے پہلی بار سمیر کےفیس بک اکاوہینٹ کو چیک کیا FB پیج کو کھول کر اس کے پروفائل کو چیک کیا۔

تو سمیر کی پروفائل میں اس کی سمارٹنس اور جوانی دیکھ کر امی حیرت زدہ ہو گئیں۔ کہ سمیر تو ان کے بیٹے سے بھی کم عمر لڑکا ہے جو انہیں ایسے کمنٹس کر رہا ہے۔

ابھی امی گیس بک پر سمیر کی فوٹوز دیکھ کر حیران ہو رہی تھیں کہ اتنے میں ان کے فون پر پر سمیر کی کال آ گئی

ہائے یہ لڑکا تو کمنٹس کرنے سے بڑھ کر اب ڈائریکٹلی کال پر آ گیا ہے، مجھے اس طرح یوں ایک انجان مرد سے بات کرنی چاہیے یا نہیں" سمیر کی کال دیکھ کر امی ابھی اپنی سوچ میں گم تھیں۔ کہ سمیر کی کال بند ہوئی مگر دوبارہ پھر سے کال آنے لگی۔
ہیلو" سمیر کی دوبارہ کال پر امی نے فون انسر کیا اور ڈرتے دل سے بولا۔

"ہائے نہ صرف آپ فوٹوز میں اتنی جوان اور سیکسی لگتی ہیں، بلکہ آپ کی آواز بھی بہت سیکسی ہے محترمہ" امی کی آواز سنتے ہی سمیر نے بنا کسی جھجک کے امی سے سیدھا بول دیا

فف یہ لڑکا تو آگے ہی بڑھتا جا رہا ہے، مجھے اس کو روکنا چاہیے" سمیر کو یوں بے شرمی سے فون پر بات کرنے کا سوچ کر امی نے اپنے آپ سے دل میں کہا۔
اور بولیں "میں نہیں جانتی کہ تم کون ہو اور کیوں مجھے تنگ کر رہے ہو، مگر میں تمہیں بتانا چاہتی ہوں، کہ میں عمر میں تم سے بہت بڑی ہوں اور تم مجھے میرے بیٹے سے بھی کم عمر لگتے ہو، اس لیے مجھے تنگ نہ کیا کرو پلیز" امی نے سمیر کو جواب دیا۔

آپ کو پتا ہے کہ پیار مین عمر نہی دیکھی جاتی اس لیے اپ اپنی اور میری عمر کے اس گپ ٖکی پروا ناں کریں کیونکہ اس گیپ کے باوجود اپ مجھے بہت پیاری لگتی ہیں، اس لیے میں آپ سے نہ صرف دوستی بلکہ پیار بھی کرنا چاہتا ہوں امی کی بات کے جواب میں سمیر نے سیدھا اپنے دل کی بات بیان کی۔

اس عمر میں ایک جوان لڑکے سے دوستی اور پیار کا سنتے ہی نہ چاہتے ہوئے امی کا دل سمیر پر آ گیا بلکہ نیچے سے ان کی بیوہ پھدی بھی کافی ٹائم بعد آہستہ آہستہ گرم ہونے لگی۔

بہت ڈھیٹ اور بے شرم ہو مگر سچ کہوں کہ مجھے تمہاری یہ بے شرمی پسند آئی ہے اس لیے فی الحال مجھے تم سے پیار ویار تو نہیں، بس تمہاری دوستی کی آفر قبول ہے" سمیر کی بات سن کر جونہی امی کی پھدی گرم ہوئی۔ تو انہوں نے سوشل میڈیا ایپ پر ایک انجان مرد سے دوستی کر لی۔
Like Reply
#6
امی سے دوستی کے بعد سمیر نے امی کو اپنا انٹروڈکشن ایک کراچی والے پاکستانی کے طور پر کروایا اور بتایا کہ جو اب جاب کے سلسلے میں دبئی میں رہتا ہے۔ جب کہ اس کے امی ابو فوت ہو چکے ہیں اور کوئی بھی نہیں۔

سمیر کی بات سن کر امی کو اس سے مزید ہمدردی ہو گئی اور امی نے بھی سمیر کو اپنے نام کے ساتھ عمر اور اپنے بیوہ ہونے کا بتا دیا۔ اور اس کے ساتھ ہی امی نے سمیر کو اپنا واٹس ایپ نمبر بھی دے دیا۔ تو یوں سمیر اور امی کی دوستی آگے بڑھنے لگی۔

اب امی سمیر سے ہر رات دیر تک ادھر ادھر کی باتیں کرنے لگیں۔

ان باتوں کے دوران ہی سمیر امی سے ہلکا پھلکا فلرٹ بھی کرتا۔ جس کو سن کر امی کو مزا آتا۔

سمیر سے فون پر دوستی کے بعد امی کی حالت ایک ایسی ٹین ایج گرل کی طرح ہو چکی تھی۔ جسے جوانی میں پہلا پیار ہو جائے۔ تو وہ گھر والوں سے چھپ چھپ کر ہر وقت فون پر اپنے محبوب سے باتیں کرنے لگتی ہے

چند روز کے بعد ایک دن میں نے سمیر کے ساتھ ایک پلان بنایا۔ اور فوزیہ کو کہہ کر میں نے امی کے لیے ایک نیا شلوار قمیض سوٹ سلوایا۔ جس کا گلا کافی کھلا تھا۔ اور قمیض بھی ٹائٹ فٹ تھی۔

جب فوزیہ نے امی کو وہ قمیض پہننے کو دی۔ تو اس قمیض کے گلے سے امی کی بھاری چھاتیوں کا اچھا خاصا حصہ چھلک کر باہر آنے لگا۔

"فوزیہ قمیض کی فٹنگ تو ٹھیک ہے۔ مگر یہ گلا بہت کھلا ہے، جس میں سے میرا سینہ کافی نظر آ رہا ہے" قمیض پہن کر امی نے شیشے میں اپنے آپ کو دیکھا۔ تو اپنے موٹے بھاری مموں کو شیشے میں قمیض سے چھلکتا دیکھ کر امی نے فوزیہ سے شکایت کی۔

چلیں آپ اسے پہنے رکھیں اور اوپر دوپٹہ کر لیں، آپ نے ابھی کون سے باہر جانا ہے، میں کل درزی سے کہہ کر گلا ٹھیک کروا دوں گی" فوزیہ یہ کہتے ہوئے کمرے سے باہر آ گئی۔

میں بھی چونکہ کمرے کے باہر کھڑا چھپ کر سب دیکھ اور سن رہا تھا۔ اور ساتھ میں ویڈیو چیٹ کے ذریعے سمیر کو فون پر امی کے کمرے کا نظارہ بھی کروا رہا تھا۔ تو میں نے سمیر کو کہا کہ وہ امی کو فوراً ویڈیو کال کر کے چیٹ کرے۔

سمیر نے فوراً امی کو ویڈیو کال کی تو امی کو قمیض چینج کرنے کا موقع نہ ملا۔ تو انہوں نے سینے پر دوپٹہ ڈال کر سمیر سے بات شروع کر دی۔

"کیا کر رہی تھیں میری دوست؟" سمیر نے ویڈیو آن ہوتے ہی امی سے سوال کیا۔

وہ میری بہو میرے لیے نیا شلوار قمیض سوٹ سلوا کر لائی ہے، بس اسی کی فٹنگ چیک کر رہی تھی" سمیر کے سوال پر امی کے منہ سے اچانک یہ بات نکل گئی۔

"اوکے تو پھر فون سامنے رکھ کر مجھے بھی تو اپنے نئے سوٹ کی فٹنگ دکھا دیں نا آپ،" سمیر نے امی کی بات کے جواب میں فوراً فرمائش ڈال دی۔

اچھا دیکھ لو میرا نیا شلوار قمیض سوٹ تم" سمیر کی بات سن کر امی نے فون سامنے رکھا اور فون کے کیمرہ کے سامنے کھڑے ہو کر سمیر کو اپنا سوٹ دکھانے لگی۔

"سوٹ میں خاک دیکھو، آدھے سے زیادہ جسم پر تو آپ نے دوپٹہ لیا ہوا ہے، اس لیے دوپٹہ اتار کر مجھے قمیض کی فٹنگ دکھاؤ یار" امی کو سکرین پر دوپٹہ اوڑھے دیکھ کر سمیر نے گلہ کیا اور ساتھ ہی دوپٹہ اتارنے کی فرمائش بھی کر دی۔

نہیں میں دوپٹہ نہیں اتار سکتی ابھی" سمیر کی بات سن کر امی نے گھبرا کر جلدی سے جواب دیا۔

مجھے دوپٹے کے بغیر ہی آپ کی قمیض کی فٹنگ دیکھنا ہے" سمیر بھی اپنی ضد پر قائم رہا۔

"نہیں میں دوپٹہ نہیں اتار سکتی، کیونکہ قمیض کا گلا بہت کھلا ہے، جس کی وجہ سے میرا جسم ننگا ہوتا ہے" سمیر کی ضد دیکھ کر امی نے اسے سمجھانے کی کوشش کی۔

ہائے صدقے جاؤں، سچی بات یہ ہے، کہ فیس بک پر آپ کی یہ بھاری چھاتیاں ہی تو ہیں، جنہیں پر دیکھ کر میں آپ کا دیوانہ ہوا، اس لیے اب تو ضرور دوپٹہ اتار کر مجھے اپنی ان گداز چھاتیوں کا لائیو دیدار کروانا پڑے گا جان" امی کی بات سن کر سمیر نے امی سے کھلے لفظوں میں انہیں اپنے موٹے اور بھاری مموں کا دیدار کروانے کی فرمائش کی۔

تو آج ایک اجنبی جوان مرد جو ان کے بیٹے کی عمر کا تھا۔ کے منہ سے کھلے الفاظ میں اپنے موٹے مموں کی تعریف سن کر امی کی چوت گرم ہونے لگی۔

مگر اس کے باوجود امی کا دل دوپٹہ اتارنے پر رضامند نہیں تھا۔

نہیں میں دوپٹہ نہیں اتار سکتی سمیر" امی نے سمیر کو جواب دیا

ٹھیک ہے میں پھر فون بند کر دیتا ہوں، اور آج کے بعد میں آپ سے رابطہ بھی نہیں کروں گا پھر" امی کا دوپٹہ اتارنے سے انکار سن کر سمیر نے جب امی کو یہ دھمکی دی۔

تو سمیر کی دھمکی سن کر امی ایک دم سے گھبرا گئیں اور فوراً بولی "بہت ضدی ہو تم یار" اور اس کے ساتھ ہی اپنا دوپٹہ اتار قمیض میں سے باہر چھلکاتے ہوئے اپنے بڑے بڑے مموں کو سمیر کی نظروں کے سامنے نیم عریاں کر دیا۔
Like Reply
#7
افف چشم بددور، کیا خوبصورت اور شاندار ممے ہیں آپ کے، انہیں دیکھتے ہی دل کر رہا ہے، کہ ان پر اپنے ہونٹ رکھ کر ساری رات انہیں چومتا اور چاٹتا رہوں" امی کی گداز اور رس بھری چھاتیوں کا قمیض میں سے جھلکتا نظارہ دیکھ کر سمیر نے سسکتے ہوئے جب یہ بات کہی۔
تو ایک اجنبی جوان مرد کے منہ سے اپنے مموں کی یوں ننگی تعریف سن کر امی کی پھدی پانی پانی ہو گئی۔ اور انہوں نے انجانے میں اپنے سینے کو اور اوپر کیا۔ جس کی وجہ سے امی کے ممے قمیض سے ابھر کر سمیر کے سامنے مزید عریاں ہونے لگے۔
ہائے مجھے یہ تو آئیڈیا تھا، کہ آپ کا جسم بہت خوبصورت ہے، مگر آپ نے اپنے کپڑوں کے نیچے اتنا شاندار اور زبردست خزانہ چھپایا ہوا ہے، اس کا مجھے آج اندازہ ہوا رخسانہ جی" امی کی بھاری چھاتیوں کو اپنے سامنے مزید ابھرتا دیکھ کر سمیر نے امی کے حسن کی مزید تعریف کی۔
تو امی شرما کر بولیں "ہائے اب بس بھی کر دو بے شرم" اور اس کے ساتھ ہی انہوں نے دوپٹہ اٹھا کر دوبارہ سے اپنے جسم کو ڈھانپ لیا۔
ابھی امی نے دوپٹہ لیا ہی تھا۔ کہ سگنل کم ہونے کی وجہ سے فون کی لائن ڈراپ ہو گئی۔


فون بند ہوتے ہی امی نے ایک دم اٹھ کر شیشے کے سامنے اپنے جسم کا جائزہ لیا۔
تو انہیں محسوس ہوا کہ سمیر کی ان کے مموں کے بارے میں کی گئی تعریف سن کر ان کی پھدی سے پانی چھوٹ گیا ہے۔ جو اب پھدی سے نکل کر ان کی رانوں کو بھی گیلا کرنے لگا تھا
ابھی امی شیشے کے سامنے کھڑی اپنے جسم کا جائزہ لینے میں مصروف تھی۔ کہ اتنے میں واٹس ایپ پر میسج آنے کی آواز آئی۔

امی نے واٹس ایپ کو اوپن کیا۔ تو سمیر کی سینڈ کی ہوئی فوٹو کو دیکھ کر ان کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں۔
وہ فوٹو اصل میں ایک بہت موٹے تازے اور لمبے سخت مسلم لن کی تھی۔ جس کے ختنے ہوئے ہوئے تھے۔
چونکہ سمیر نے امی کو ابھی تک یہ ہی شو کیا ہوا تھا۔ کہ وہ کراچی کا ایک مسلمان لڑکا ہے۔ اس لیے سمیر نے یہ فوٹو نیٹ سے ڈھونڈ کر نکالی تھی۔
دیکھیں آپ کے موٹے بڑے مموں کے فون پر دیدار ہوئے ایک جلوے نے میرے لن کی کیا حالت کر دی ہے رخسانہ بیگم" امی کو بھیجی گئی لن کی اس فوٹو کے ساتھ سمیر کا یہ میسج پڑھ کر امی حیران رہ گئیں۔
آج امی نے پہلی بار اپنے مرحوم شوہر کے لن کے علاوہ کسی دوسرے غیر مرد کا لورا دیکھا تھا۔ جو ان کے مرحوم شوہر کے مقابلے میں نہ صرف بہت جوان بلکہ موٹا اور کافی لمبا تھا
امی نے سمیر کی سینڈ کی ہوئی لن کی فوٹو کو دیکھ کر فون سے نظریں فوراً ہٹا لیں۔مگر پھر کچھ ہی دیر بعد بار نا چاہتے ہوئے ایک بار پھر سے بڑے غور سے سکرین پر نظر آنے والے سمیر کا لن کی فوٹو دیکھی. تو سمیر کے ہیرے ہوئے موٹے لوڑے کو دیکھ کر امی کی پھدی نے ایک بار پھر اپنا پانی خارج کر دیا
افف تم بہت بے شرم اور آوارہ لڑکے ہو، جو اس طرح کی گندی فوٹو مجھے سینڈ کر رہے ہو" امی نے سمیر کو غصے بھرا یہ میسج بھیج کر ساتھ میں غصے والی ایک ایموجی بھی سینڈ کر دی

سمیر نے امی کا ریپلائی دیکھا اور مسکراتے ہوئے اپنے ہیرے ہوئے ان کٹ ہندو لوڑے کو ہاتھ سے مسلتے ہوئے آہستہ سے بولا
"ہائے جب میرا یہ ان کٹ انڈین ہندو لوڑا تمہاری پاکیزہ پاکستانی پھدی میں جائے گا، تو تب تمہیں اندازہ ہو گا کہ میں کتنا بے شرم انسان ہوں رخسانہ" اس کے ساتھ ہی سمیر نے فون آف کیا اور کروٹ بدل کر سو گیا
Like Reply
#8
س واقعہ کے دو تین بعد سمیر نے اپنا فون آف ہی رکھا. اور امی سے فون پر کوئی بات نہیں کی

جب کہ ان تین دنوں میں سمیر کا موٹا لمبا جوان لوڑا بار بار ہر امی کے خوابوں خیالوں میں آ کر امی کی چوت کی گرمی کو بڑھاتا رہا. جس کی وجہ سے امی بے تابی سے سمیر کی کال کا ویٹ کرتی رہیں. مگر سمیر کا فون نہ آیا

چوتھے دن رات کو اپنے روم میں آتے ہی. امی نے سمیر کو کال ملا دی. جوں ہی سمیرنے فون اٹھایا تو امی نے فوراً پوچھا "کدھر غائب ہو تم

بس ادھر ہی ہوں" سمیر نے جان بوجھ کر تھوڑا ہلکا سا رسپانس دیا

تو فون کیوں نہیں کیا" سمیر کے جواب کو سنتے ہی امی نے پوچھا

بس اس دن اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکا اور آپ کو اپنی ننگی فوٹو بھیج دی، اسی شرمندگی کی وجہ سے فون نہیں کیا" سمیر نے جان بوجھ کر بہانہ بناتے ہوئے جواب دیا

"چلو تمہیں اپنی غلطی کا احساس ہوا تو اچھی بات ہے" امی نے سمیر کی بات کے جواب دیتے ہوئے کہا

وہ تو ٹھیک ہے، مگر سچ بات یہ ہے کہ آپ کے اس دن کے نیم عریانی حسن کو دیکھ کر، نہ صرف میری راتوں کی نیند اڑ چکی ہے، بلکہ میرا دل چاہ رہا کہ آپ سے شادی کر کے آپ کو اپنی دلہن بنا لوں رخسانہ بیگم" امی کی بات کے جواب میں سمیر نے ایک دم سے یہ بات کہی. تو سمیر کی بات سنتے ہی امی کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا

"تم ہوش میں تو ہو، تمہیں پتا ہے کہ تم کیا بات کر رہے ہو، میں تمہاری ماں کی عمر کے برابر ایک بیوہ عورت ہوں، جس کی اپنی اولاد تم سے بڑی عمر کی ہے، اور تم مجھے ادھیڑ عمر بیوہ سے شادی کے سپنے دیکھ رہے ہو" سمیر کی بات سن کر اپنی کو شاک سا لگا. اور اس نے جلدی سے جواب دیا

آپ کے اس بھرپور جسم اور گداز مموں نے واقعی ہی میرے ہوش و حواس اڑا دیے ہیں اور میں آپ کے عشق میں پاگل ہوا جا رہا ہوں، پچھلے تین دن سے میرا لن آپ کی گرم جسم کے لیے پاگل ہو کر ٹکریں مار رہا ہے، اس لیے میں آپ سے شادی کرنا چاہتا ہوں، اور سہاگ رات منا کر نہ صرف آپ کی بیوگی دور کرنا چاہتا ہوں، بلکہ آپ کے لیے ہیرے ہوئے اپنے لن کی گرمی بھی دور کرنا چاہ رہا ہوں" امی کی بات کے جواب میں سمیر نے کھلے دل سے اپنی بات امی کے سامنے بیان کر دی

سمیر کی یوں کھلے انداز میں شادی اور سہاگ رات منا کر ان کی بیوگی دور کرنے اپنے لن کی پیاس بجھانے کی بات سن کر امی سوچ میں پڑ گئیں

اصل میں حقیقت یہ ہی تھی. کہ جس طرح فیس بک

پر امی کی فوٹو اور ان کے موٹے ممے دیکھ کر سمیر ان کا دیوانہ بنا تھا

اسی طرح سمیر کے موٹے لمبے جوان لن کے جلوے نے امی کی چوت میں بھی ہلچل مچا دی تھی

اس لیے امی کو سمیر کی ان کے ساتھ سہاگ رات منا کر انہیں اپنے سخت جوان لن سے چودنے کی بات سن کر پھر سے اپنی چوت میں گرمی محسوس ہونے لگی

اور بولیں "تمہاری شادی کی آفر پر میں تمہیں سوچ کر ایک دو دن میں جواب دوں گی" یہ بات کہہ کر امی نے فون بند کر دیا

میں اور فوزیہ نے سمیر کی امی کے درمیان ہونے والی آج تک کی ساری کنورسیشن گروپ کال میں سنی تھی. اس لیے امی کے فون بند کرتے ہی فوزیہ نے شلوار میں میرے ہڑے لن کو ہاتھ میں پکڑا اور مٹھ لگاتے ہوئے بولی "لو جی آج تمہاری امی کی بیوہ چوت کے ایک جوان ہندو مرد کا رشتہ آیا ہے،"اور اب مجھے یقین ہے کہ میری ساس اس رشتے کو قبول کر کے اپنی پاکیزہ چوت اس ہندو لن سے پھروائے گی، تو یوں پھر جلد ہی میری چوت کو بھی ایسا ہی کوئی موٹا لمبا ہندو لورا چدوانے کے لیے نصیب ہو جائے گا” میرے لن کی مٹھ لگتے میری بیوی فوزیہ نے یہ بات کہی. تو اپنی امی اور بیوی کی پاکیزہ پھدیوں میں ہندو مردوں کے ان کٹ کافر لوروں کو جانے کا سوچ کر میں مزے سے سسکارنے لگا
Like Reply
#9
تم اب امی پر نظر رکھو اور ان کو سمیر کے ساتھ شادی پر راضی کرو، تا کہ میں جلد از جلد امی اور تمہاری چوت ہندو مردوں کے لن کے سامنے پیش کر سکوں میری جان” اپنی بیوی کی بات سن کر میں نے بھی فوزیہ کو اپنی باہوں میں لیا اور اس کے گداز ہونٹوں کو چومتے ہوئے اس سے فرمائش کی

ٹھیک ہے میں امی کو راضی کرنے کی ٹرائی کرتی ہوں” یہ بات کہتے ہوئے فوزیہ مجھ سے الگ ہو کر کچن سے پانی پینے چلی گئی

اُدھر دوسری طرف امی اب سمیر سے بات کرنے کے بعد بیڈ پر لیٹے ہوئےفیس بک پر سمیر کا پیج کھول کر اس کی نئی اپلوڈڈ فوٹوز کو دیکھتے ہوے
ساتھ سوچ رہی تھیں کہ “ اتنا ہینڈسم جوان لڑکا کیوں ان کا اتنا عاشق بن گیا ہے، کہ ان سے شادی کرنے پر تل چکا ہے

سمیر کی فوٹوز دیکھتے ہوئے امی کے ذہن میں ایک تو یہ خیال آ رہا تھا

اس کے ساتھ دوسرا جو خیال امی کے ذہن میں آ رہا تھا

وہ خیال سمیر کے موٹے سخت لن کے بارے میں تھا. “ کہ اگر سمیر نے ان سے شادی کر کے ان سہاگ رات کو ان کی 20 سال سے بیوہ اور لن سے محروم چوت میں جب اپنا لن ڈالے گا، تو سمیر نے تو اپنے جوان سخت لورے سے میری عمر رسیدہ چوت کی دھجیاں بکھیر دینی ہیں” یہ خیال ذہن میں آتے ہی امی نے فون کو اسی طرح آن کیے اپنے ہاتھ میں رکھا اور شلوار میں ہاتھ ڈال کر اپنی چوت پر اپنا دوسرا ہاتھ رکھا اور اپنی پھدی کو آہستہ آہستہ مسلتے ہوئے سسکاری “ سمیر ہائے سمیر، میری چوت تمہارے لن کے لیے مچل رہی ہے، آؤ اور اپنا موٹا لن میری چوت میں ڈال کر مجھے چود دو سمیر

ہائے امی یہ کیا ہو رہا ہے، اور یہ سمیر کون ہے، جسے آپ رات کے اس طرح کی حرکت کرتے ہوئے آپ یوں یاد کر رہی ہیں؟

کچن میں پانی پینے کے لیے جاتی فوزیہ نے جب امی کے کمرے کے پاس سے گزری. تو ونڈو پر کرٹن تھوڑا ہٹا ہوا تھا. جس وجہ سے فوزیہ کو امی بستر پر لیٹ کر اپنی چوت سے کھیلتی نظر آ گئیں

اس لیے موقع سے فائدہ اٹھانے کے لیے فوزیہ نے امی کے کمرے کا دروازہ کو ہاتھ لگایا. تو وہ اوپن تھا. اس لیے فوزیہ خاموشی سے امی

کے روم میں انٹر ہوئی

اور امی کو سمیر کا نام لے کر اپنی چوت سے یوں کھیلتا دیکھ کر ایک دم سے بول پڑی

اف فوزیہ تم اس وقت اس طرح اچانک میرے کمرے میں کیسے؟” فوزیہ کو رات کے وقت اپنے کمرے میں دیکھ کر امی ایک دم گھبرا گئیں. اور اس گھبراہٹ کے عالم میں انہوں نے فوزیہ سے سوال کیا. تو اس کے ساتھ ہی ہاتھ میں پکڑا ہوا فون ان کے ہاتھ سے چھوٹ کر فرش پر جا گرا

میں تو پانی پینے کچن میں جا رہی تھی، مگر آپ کو کمرے میں اس سمیر نامی لڑکے کے نام پر اپنی چوت کا پانی ہاتھ سے نکلتا دیکھ کر کمرےمیں ا گی

فوزیہ نے فلور پر پڑا فون ہاتھ میں اٹھایا. اور فون کی سکرین پر ابھی تک موجود سمیر کے

پیج پر فوٹو دیکھ کر امی سے مسکراتے ہوئے کہا. اور ساتھ ہی امی کو فون واپس کر دیا

مجھے افسوس ہے کہ میں آج اپنے جذبات کی رو میں بہہ کر اس طرح کی حرکت کر بیٹھی، اس کے لیے مجھے معاف کر دینا بیٹی” اپنی بہو کے ہاتھوں یوں اپنی چوت سے کھیلتے ہوئے پکڑے جانے پر امی شرمندہ ہو گئیں. اور بستر سے اٹھ کر بیڈ پر بیٹھ گئیں

ایک عورت کی حیثیت سے میں آپ کے جنسی جذبات کو سمجھتی ہوں، اس لیے آپ کو شرمندہ ہونے کی کوئی ضرورت نہیں امی جی” امی کی بات سن کر فوزیہ ان کے ساتھ بیڈ پر بیٹھ گئی. اور امی کو گلے لگا کر تسلی دی

فوزیہ کا یہ رویہ دیکھ کر امی پرسکون ہو گئیں. اور انہوں نے سمیر کے ساتھ ہونے والی اپنی ساری بات چیت کی ڈیٹیل اپنی بہو کو بتا دی

ویسے دیکھنے میں تو لڑکا کافی سمارٹ اور جوان ہے. تو پھر کیا خیال ہے آپ کا شادی کے بارے میں امی؟” امی کی ساری بات سن کر فوزیہ نے پوچھا."ہائے سچ پوچھو تو اتنے سال بیوہ ہونے کا دکھ کاٹنے کے بعد اب میرا دل تو کر رہا ہے کہ سمیر سے شادی کی ہاں کر دوں، مگر یہ سوچ کر چپ ہو جاتی ہوں، کہ ایک تو سمیر سے بڑے میرے اپنے بچے ہیں، دوسرا اس عمر میں جوان لڑکے سے شادی پر دنیا کیا کہے گی" فوزیہ کے سوال کے جواب میں امی بولیں۔

آپ عمران اور شازیہ کی فکر مت کریں ان سے تو میں خود بات کر لوں گی، باقی رہ گئی دنیا، تو اس کی پرواہ کرنے کی ضرورت نہیں آپ کو، اس لیے اب آپ اپنی نئی شادی کی تیاری شروع کریں امی جی" فوزیہ نے امی سے یہ بات کہی. تو امی نے جوش میں آتے ہوئے فوزیہ کو گلے لگا لیا۔

تھوڑی دیر بعد فوزیہ میرے پاس واپس کمرے میں آئی. اور بستر پر میرے برابر لیٹ کر میرے شلوار میں میرے سوئے ہوئے لوڑے کو ہاتھ میں پکڑ کر مسلتے ہوئے بولی چلو جی تمہاری امی تو ایک ہندو مرد سے چدوانے کے لیے پوری طرح تیار ہے، اب اپنی امی کی پھدی میں ہندو مرد کا ان کٹ موٹا لوڑا جاتا دیکھنے کی تیاری شروع کرو اور جب تمہاری امی کی پھدی نے ایک بار ہندو مرد کے ان کٹ لوڑے کا مزہ چکھ لیا، تو پھر میرے لیے ہندو مرد سے چدوانے میں کوئی مشکل باقی نہیں رہے گی"

اپنی بیوی کی بات سنتے ہی شلوار میں سویا ہوا میرا لوڑا ایک دم سے کھڑا ہو گیا. اور میں نے اپنی بیوی فوزیہ کی شلوار اتار کر اس میں اپنا لوڑا ڈال کر اسے جوش سے چودنا شروع کر دیا۔
Like Reply
#10
اگلے دن میں نے امی سے ناشتے پر بات کی اور انہیں کہا کہ فوزیہ نے مجھے سب بتا دیا ہے. اس لیے مجھے تو ان کی سمیر سے شادی پر کوئی اعتراض نہیں. مگر ہم میری بہن شازیہ سے اس بات کو ابھی کچھ دیر چھپا کر رکھیں گے. اور شادی کے کچھ ٹائم بعد ہی اسے امی کی نئی شادی کے بارے میں بتائیں گے۔

میری بہن شازیہ یونیورسٹی آف پنجاب لاہور میں پڑھنے کی وجہ سے ادھر ہاسٹل میں ہی رہتی تھی. اس لیے گھر میں فوزیہ، میں اور امی ہی رہتے تھے. اس لیے شازیہ سے امی کی سمیر سے شادی کو کچھ دیر کے لیے چھپانا کچھ مشکل کام نہیں تھا۔
او نیٹا تم نے میری نہت ساری مشکل حل کر دی کیونکہ مجھے

خیال بھی پریشان کر رہا تھا. کہ اگر میں نے سمیر سے شادی پر ہاں کر دی. تو میری جوان اولاد کیا سوچے گی
 

مگر مجھے خوشی ہے، کہ تمہیں میری نئی شادی پر کوئی اعتراض نہیں بیٹا" امی نے جوں ہی میرے منہ سے اپنی شادی کی بات سنی. تو وہ ایک دم سے خوش ہوتے ہوئے مجھ سے کہنے لگیں

میری بہن شازیہ یونیورسٹی آف پنجاب لاہور میں پڑھنے کی وجہ سے ادھر ہاسٹل میں ہی رہتی تھی. اس لیے گھر میں فوزیہ، میں اور امی ہی رہتے تھے

اس لیے شازیہ سے امی کی سمیر سے شادی کو کچھ دیر کے لیے چھپانا کچھ مشکل کام نہیں تھا

"آپ نے ہمارے لیے اپنی جوانی قربان کی ہے، تو اب ہمارا بھی فرض بنتا ہے، کہ آپ کی خوشی کا بھی خیال کریں" امی کی بات کے جواب میں امی کو تسلی دیتے ہوئے میں نے کہا. تو امی ایک دم سے اٹھیں اور مجھے گلے لگا لیا. جس کی وجہ سے امی کی بھاری گداز چھاتیاں میرے سینے میں جذب ہو گئیں.

اپنی امی کے بھاری مموں کے سواد سے میری شلوار میں میرا لورا ہرنے لگا

مگر اس سے پہلے کہ امی میرے لن کو اپنی چوت کے منہ کے دروازے پر دستک دیتا ہوا محسوس کر لیتیں. میں امی سے الگ ہوا اور گھر سے باہر نکل آیا.

گھر سے باہر آ کر میں نے سمیر کو کال ملائی اور اسے بتا دیا کہ امی نے اس سے شادی کرنے کے لیے ہاں کر دی ہے.

"اف یہ تو زبردست ہو گیا، اب بتاؤ کہ میں کب آؤں پاکستان، تمہاری امی کی پیاسی بیوہ چوت کو اپنے لن سے دوبارہ آباد کرنے"

"تم مجھے اپنی ایک پاسپورٹ سائز فوٹو سینڈ کرو، تاکہ میں تمہارا ایک فیک پاکستانی آئی ڈی کارڈ بنوا لوں، اور ساتھ ہی میں مولوی صاحب سے نیکسٹ ویک سنڈے کی رات نکاح کا ٹائم سیٹ کرتا ہوں، اس لیے بھی امی سے بات کر کے اپنی سیٹ بک کروا لو تم"

میں نے سمیر کی بات کے جواب میں اسے اگلے پروگرام کی تفصیل بتا دی. تو سمیر نے مجھے ہاں ٹھیک ہے. کہہ کر فون کاٹ دیا.

اگلے ہی سیکنڈ میں اس نے میرے واٹس ایپ پر مجھے اپنی فوٹو سینڈ کر دی. تو میں سمیر کو جعلی پاکستان آئی ڈی کارڈ بنوانے کے لیے ایک جاننے والے کے پاس چل پڑا.

"کیا کر رہی ہو میری جان" سمیر نے میرے بعد امی کو کال ملا دی. اور امی کی آواز سنتے ہی ان سے پوچھا.

"تمہارے فون کا ہی انتظار کر رہی تھی" اپنے جوان عاشق کی بات سنتے ہی امی نے خوشی سے جواب دیا.

"کیوں خیریت ہے نا میری جان" سمیر کو پتا تو تھا. مگر وہ اب میری امی رخسانہ کے منہ سے سننا چاہتا تھا.

"وہ اصل میں میری بہو کو تمہاری اور میری دوستی کا پتا چل گیا ہے، پھر میری بہو نے میرے بیٹے عمران سے بات کی، تو انہیں تمہاری اور میری شادی پر کوئی اعتراض نہیں، اس لیے مجھے اب تمہاری بیوی بننا قبول ہے سمیر" سمیر کی بات کے جواب میں امی نے ساری بات بتا دی.

"اف یہ تو بہت خوشی کی بات ہے، اور اس کا مطلب ہے، کہ اب جلد ہی ہماری سہاگ رات ہو گی، اور پھر اپنی بیوی کے پیسے اور گداز جسم کا بھرپور مزہ لے سکوں گا" امی کی بات سنتے ہی سمیر جوش سے بولا. تو اپنے ہونے والے جوان شوہر کی بات سن کر امی کی بیوہ پھدی گرم ہونے لگی.

مگر پھر شرمانے کا ناٹک کرتے ہوئے بولی "ہائے کیوں ایسی گندی باتیں کرتے ہو تم سمیر"

"یہ گندی باتیں نہیں بلکہ حقیقت ہے، ویسے بھی آپ کو تو پتا ہی ہے، سہاگ رات کو کیا ہوتا ہے، آپ کی تو یہ دوسری سہاگ رات ہو گی میری جان" امی کی بات پر سمیر نے جواب دیا. تو اپنی بیوہ چوت کو میں سمیر جیسے جوان لڑکے کا لن کا سوچتے ہی امی کی پھدی پانی پانی ہونے لگی. مگر وہ اب کی بار خاموش رہی.

اچھا میں نیکسٹ سنڈے کو پاکستان آ رہا ہوں، اور اسی دن میری اور آپ کی شادی ہو گی، اس لیے آپ مجھ سے سہاگ رات منانے اور چدوانے کی تیاری کر لینا میری جان

سمیر نے امی کو یہ بات کہہ کر فون کاٹ دیا. تو سمیر کے آنے اور ایک بار پھر اپنی سہاگ رات کا سنتے ہی امی کی پھدی سے گرمی کی مارے پانی نکل کر امی کی موٹی چوڑی رانوں کو بھگونے لگ

سمیر نے فون بند کرتے ہی دوبارہ مجھے کال ملائی. اور پھر قریبی شاپنگ مال کا رخ کیا. سمیر نے میرے ساتھ مشورہ کر ہی امی کے لیے نہایت سیکسی قسم کے کچھ پش اپ براز، تھونگ ٹائپ کی پینٹیز، اور شادی کے لیے ایک سیکسی قسم کا لہنگا اور چولی خرید کر میرے گھر کے ایڈریس پر کوریئر کے تھرو پوسٹ کر دیا.

2 دن بعد جب میں جاب سے گھر واپس آیا.اسی وقت کوریئر والا گھر کے دروازے پر وہ پیکج لے کر کھڑا تھا۔ میں پیکج لے کر گھر داخل ہوا۔ تو امی اور فوزیہ ایک ساتھ ہمارے ہی بیڈ روم میں بیٹھی شادی کے بارے میں باتیں کر رہی تھیں۔

یہ اتنا بڑا پیکج کہاں سے اٹھا لائے ہو بیٹے" میرے ہاتھ میں اٹھائے پیکج کو دیکھ کر امی نے پوچھا۔

امی سمیر نے آپ کے لیے یہ پیکج سینڈ کیا ہے" اپنے ہاتھ میں پکڑے پیکج کو میں امی کو پکڑاتے ہوئے کہا۔

"میرے لیے اور وہ بھی سمیر نے یہ پیکج بھیجا ہے" میرے ہاتھ سے پیکج لیتے ہوئے امی نے کہا۔ اور ساتھ ہی فوزیہ کو طرف کرتے ہوئے اسے پیکج کھولنے کا کہا۔

افف امی دیکھیے تو سہی، سمیر نے تو آپ کے لیے بہت ہی سیکسی قسم کے انڈر گارمنٹس اور شادی کی لہنگا سینڈ کیا ہے فوزیہ نے پیکج کو کھولا۔ تو اس میں سے نکلے امی کے برا اور پینٹیز بستر پر پھیل گئے۔

ہائے کچھ تو شرم کرو، تم نے عمران کے سامنے ہی یہ سب کچھ بستر پر بکھیر دیا" سمیر کے بھیجے ہوئے امی کے سیکسی انڈرگارمنٹس کو بستر پر بکھرا دیکھ کر امی کو مجھ سے شرم محسوس ہوئی۔ تو انہوں نے ان کپڑوں کو سمیٹنے کی کوشش کی۔

ہائے اس میں شرم کی کیا بات ہے، ہر شوہر اپنی بیوی کے لیے ایسی چیزیں خریدتا ہی ہے، آپ کا بیٹا عمران بھی میرے لیے انڈر گارمنٹ بائے کرتا ہے، مگر سمیر نے تو بہت ہی سیکسی قسم کے برا اور پینٹی سینڈ کی ہے، آپ کے لیے امی جی" فوزیہ نے امی کے شرمانے والے انداز کو نظر انداز کرتے ہوئے کہا۔ تو امی مسکرا کر خاموش ہو گئیں۔

ہاں واقعی ہی سمیر کی پسند بہت اچھی ہے، اسی لیے اس نے امی کے لیے اتنے پیارے کپڑے سینڈ کیے ہیں" میں نے امی کا یوں شرماتے دیکھا۔ تو بستر پر پڑے امی کے نئے برازیئر اور تھونگ نما پینٹی کو ہاتھ میں پکڑ کر دیکھتے ہوئے کہا۔ تو میری بات سنتے ہی امی کا منہ شرم سے مزید سرخ ہو گیا۔
Like Reply
#11
جب میں نے امی کی یہ حالت دیکھی۔ تو فوزیہ کو دیکھتے ہوئے کہا "میری سمیر سے بات ہو گئی اور وہ نیکسٹ سنڈے کو امی سے نکاح کرنے آ رہا ہے۔ اور نکاح کے بعد وہ ہمارے گھر میں ہی رہے گا۔

اس لیے فوزیہ تم امی کے کمرے کو صاف کر لینا اور میں امی کی سہاگ کی سیج سجانے کی تیاری کرتا ہوں۔ یہ بات کر کے میں کمرے سے باہر نکل آیا۔

نیکسٹ کچھ دن امی، فوزیہ اور میں نے امی کی شادی کی تیاری میں گزار دیے۔

اس دوران فوزیہ نے سمیر کا بھیجا ہوا لہنگا اور چولی امی کو پہنا کر اس کی سائز اور فٹنگ چیک کی۔ اور ساتھ ہی ساتھ امی کا فیشل کروایا اور ان کے بال ہائی لائٹ کروائے۔

جب کہ میں نے ایک کیمرا انسٹال کرنے والے بندے کو بلا کر اپنی امی کے کمرے کے بیڈ کے عین اوپر اور چاروں کونوں اور باتھ روم میں ایسے خفیہ کیمرے لگوا لیے۔

جس سے میں اپنے کمرے میں بیٹھ کر سمیر اور امی کی سہاگ رات کا سب منظر پورا دیکھ اور ان کی سب بات چیت سن سکتا تھا۔

پھر سنڈے والے دن میں نے شادی پر ڈیکوریشن کرنے والے دو لوگوں کو بلا کر امی کے کمرے اور بیڈ کو گلاب کے پھولوں سے سجا دیا۔

اسی شام کو سمیر بھی ایمریٹس ایئر لائن کی فلائٹ سے دبئی سے پاکستان آیا۔ تو میں اس کو لینے اسلام آباد ایئرپورٹ پہنچ گیا۔

جب میری سمیر سے پہلی ان پرسن ملاقات ہوئی۔ تو اس کا اونچا لمبا قد اور اس کی سمارٹنس اور کسے ہوئے جوان جسم کو دیکھ کر میں بہت خوش ہوا۔ کہ اپنی میچور امی کی چدائی کے لیے اس جوان لڑکے کا میرا انتخاب صحیح ہے۔ اور سمیر ہی وہ جوان مرد ہے۔ جس کے ان کٹ لوڑے سے چدوا کر میری امی کی بیوہ پیاسی چوت ایک بار پھر سے آباد ہو جائے گی۔

میں نے ایئرپورٹ سے فوزیہ کو فون کیا اور اسے امی کو نکاح کے لیے تیار کرنے کا کہا اور ساتھ ہی مولوی صاحب کو فون کر کے اپنے گھر پہنچنے کا بول دیا۔ پھر میں نے ٹیکسی لی اور سمیر کے ساتھ گھر کی طرف روانہ ہو گیا۔

راستے میں میں نے سمیر کو اس کا فیک پاکستانی آئی ڈی کارڈ دیا۔ جس پر سمیر کا جعلی نام سمیر خان ولد اعجاز احمد اور ایڈریس کراچی کا لکھا ہوا تھا۔

گھر پہنچے تو مولوی صاحب دو گواہوں کے ساتھ پہلے سے موجود تھے۔

نکاح کے پیپرز فل کرنے کے بعد میں مولوی صاحب کے ساتھ امی والے روم میں نکاح کے لیے تیار بیٹھی اپنی امی کے پاس لے گیا۔امی اس وقت سہاگ کی سجی سیج کے ساتھ پڑے صوفے پر فوزیہ کے ساتھ بیٹھی تھیں۔ اور انہوں نے اپنے چہرے اور جسم کو چادر سے اس طرح ڈھانپا ہوا تھا. کہ ان کے صرف ہاتھ ہی نظر آ رہے تھے۔



مولوی نے سمیر کے ساتھ نکاح کے لیے امی کی رضامندی پوچھی اور امی کی ہاں سننے کے بعد دوبارہ ڈرائنگ روم میں آ کر سمیر کا نکاح امی سے پڑھوا دیا۔
Like Reply
#12
نکاح کی رسم ادا کرنے کے بعد مولوی صاحب اور گواہ چلے گئے۔ تو میں نے فوزیہ کو آواز دی کہ میں اور سمیر امی کے کمرے میں آ رہے ہیں۔


ہم دونوں ایک ساتھ کمرے میں گئے۔ تو سمیر نے امی اور فوزیہ کو سلام کیا۔

سمیر کو دیکھتے ہی میری بیوی فوزیہ کی آنکھوں میں بھی ایک جنسی چمک آ گئی۔

جسے دیکھ کر میں فوراً سمجھ گیا۔ کہ سمیر کو یوں اپنے سامنے دیکھ کر امی تو امی میری اپنی بیوی کی چوت گرم ہو کر پانی چھوڑنے لگی ہے اس وقت۔

میرے اور سمیر کے کمرے میں انٹر ہونے کے بعد فوزیہ امی کے پاس سے اٹھ گئی۔

تو میں نے سمیر کو امی کے پاس صوفے پر بٹھا دیا۔

سمیر نے امی کے ساتھ بیٹھتے ہی امی کے چہرے پر پڑی چادر کو اٹھایا۔ تو امی کا میک اپ سے سجا چہرہ ہم سب کے سامنے آ گیا۔

سمیر اور امی کی آنکھیں اصل میں جب آج آپس میں چار ہوئیں۔ تو امی کو دیکھتے ہی سمیر بولا "ماشاءاللہ

سمیر کے منہ سے امی کی تعریف سن کر میں اور فوزیہ مسکرانے لگے۔ جب کہ امی نے سولہ سالہ لڑکی کی طرح شرما کر اپنا منہ نیچے کر لیا۔

امی کو یوں شرماتے دیکھ کر سمیر بھی ہلکا سا مسکرایا اور اس کے ساتھ ہی اس نے امی کے جسم کے گرد لپٹی چادر کو بھی اتار کر سامنے پڑے ٹیبل پر رکھ دیا۔

امی کے جسم سے چادر ہٹتے ہی سمیر کے بھیجے ہوئے لہنگے میں امی کا بھرا ہوا جسم جوں ہی میرے اور سمیر کے سامنے نمایاں ہوا۔

تو امی کے پہنے ہوئے لہنگے کے کھلے گلے سے پش اپ برا کی وجہ سے باہر کو چھلکتے امی کے بڑے بڑے گداز مموں کو دیکھتے ہی سمیر کے ساتھ ساتھ میرا اپنا لن بھی کھڑا ہو گیا۔ میری امی کے موٹے بھاری مموں کو اپنی نظروں کے عین سامنے اتنا قریب یوں چولی میں سے باہر چھلکتے دیکھ کر سمیر کے منہ سے ایک دم نکلا "افف آپ کے یہ حسن واہ سبحان اللہ

سمیر بے شک ایک انڈین ہندو تھا۔ مگر کافی ٹائم دبئی میں رہنے کی وجہ سے اس نے کافی عربی جملے سیکھ لیے تھے۔

جن کا وہ اس موقع پر بہت اچھا استعمال کر رہا تھا۔

اپنے نئے جوان شوہر کے منہ سے اپنے عمر رسیدہ حسن کی تعریف سنتے ہی امی کی پہلے سے گرم چوت مزید گرم ہونے لگی اور انہوں نے شرما کر مسکراتے ہوئے اپنی آنکھیں جھکا لیں۔

مگر اس کے باوجود انہیں اپنے سامنے کھڑے اپنے جوان بیٹے کو اپنے مموں کا یوں کھلا نظارہ کروانے میں کوئی جھجک محسوس نہیں کی۔

عمران رات کافی ہو گئی ہے۔ اس لیے اب ہمیں اپنے کمرے میں جانا چاہیے۔

فوزیہ نے جب مجھے ٹکٹکی باندھے امی کے بلاؤز میں سے چھلکتے ہوئے مموں کا نظارہ کرتا دیکھا۔ تو اس نے مجھے اپنے کمرے میں جانے کا مشورہ دیا۔

اس بات کا مطلب یہ تھا۔ کہ اب نکلو یہاں سے۔ تا کہ سمیر اب امی کے ساتھ سہاگ منا سکے۔

اپنی بیوی کی بات پر عمل کرتے ہوئے۔ میں اور فوزیہ سمیر کو امی کے کمرے میں چھوڑ کر جوں ہی کمرے سے باہر نکلنے لگے۔

تو باہر نکلتے ہی میں نے مڑ کر سمیر کی طرف دیکھتے ہوئے زور سے کہا۔ "اچھا ہم اپنے کمرے میں سونے کے لیے جا رہے اب، مگر تم سونا مت، کیوں تمہارا صبح ولیمہ ہے، اس لیے تم سونے کی بجائے اس بات کو یقینی بناؤ کہ کل کا تمہارا ولیمہ جائز ہو"

یہ بات کہتے ہوئے میں نے امی کی طرف بھی دیکھا۔ تو میری بات سنتے ہی امی کے چہرے پر شرم کے مارے ایک ہلکی سی مسکراہٹ آ گئی۔

کیوں کہ میری بات سنتے ہی امی کو سمجھ آ گئی تھی کہ ان کا بیٹا کھلے لفظوں میں سمیر کو کہہ رہا تھا۔ کہ آج رات میری ماں کی پھدی میں لن ڈال کر اسے ہر حال میں چودنا اور میری امی کی چوت کی پیاس بجھانا۔ تا کہ کل ہونے والا ان کا ولیمہ جائز ہو سکے۔

"تم فکر مت کرو، اتنی خوبصورت شکل اور اتنے بھرپور اور مست بدن والی بیوی ملی ہو، تو کون کمبخت سونا چاہے گا پھر دوست" یہ کہتے ہوئے سمیر امی کے پاس سے اٹھ کر دروازے تک آیا۔اور دروازہ بند تو کر دیا۔ مگر اس نے دروازے کو کنڈی نہیں لگائی۔

سمیر کے دروازہ بند کرتے ہی میں اور فوزیہ تقریباً دوڑتے ہوئے اپنے روم میں گئے۔ اور اپنے کمرے کا ڈور بند کرتے ساتھ ہی ہم دونوں میاں بیوی نے ایک دم سے اپنے سارے کپڑے اتارے اور ننگی حالت میں اپنے بیڈ پر لیٹ گئے۔

بستر پر لیٹتے ساتھ ہی میں اپنے کمرے میں لگے ٹی وی کو آن کیا۔ اور امی کے بیڈ روم میں لگے ہوئے خفیہ کیمرہ کے ذریعے امی اور سمیر کی سہاگ رات کا منظر دیکھنے لگے۔

اُدھر امی کے کمرے میں سمیر ڈور بند کر کے آہستہ آہستہ چلتا ہوا صوفے پر بیٹھی امی کے پاس واپس آیا اور صوفے پر بیٹھی امی کو ہاتھ سے پکڑ کر صوفے سے اٹھا دیا۔

"آپ تو حقیقت میں فوٹوز اور ویڈیو کال سے بھی زیادہ حسین، جوان اور سیکسی ہو، بلکہ سچ پوچھو تو آپ کی اس گرم جوانی کو اپنے سامنے دیکھ کر مجھے اپنی قسمت پر رشک آ رہا میری جان" سمیر نے اپنے سامنے کھڑی میری امی رخسانہ کو اپنی باہوں میں بھر کر اپنی جوان چوڑی چھاتی سے لگایا۔

تو امی کے بڑے اور گداز ممے سمیر کی سخت اور چوڑی چھاتی میں جذب ہوئے۔ تو نیچے سے سمیر کی پینٹ میں اس کا کھڑا ہوا سخت لن امی کے لہنگے کے اوپر سے امی کی کئی سالوں کی بیوہ پھدی کے پھولے ہوئے لبوں سے ٹکرا گیا۔

"اُفف سیی" اپنی پیاسی پھدی کے لبوں پر اپنے نئے جوان شوہر کے موٹے سخت لن کو محسوس کرتے ہی امی نے لذت بھری سسکی لیتے ہوئے اپنا منہ کھولا۔

تو سمیر نے موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے جوان سخت ہونٹوں کو امی کے ملائم پیاسے ہونٹوں پر رکھ دیا۔ اور اپنے ہونٹوں سے امی کے ہونٹ چوسنے اور چاٹنے لگا۔

امی کے ہونٹوں کو چوستے ہوئے سمیر نے بلاؤز کے اوپر سے امی کے موٹے ممے کو اپنے ہاتھ میں قابو کر کے زور سے مسلا۔

تو اپنی بھاری چھاتی پر آج مدت بعد کسی مرد کے ہاتھ محسوس کرتے ہی امی مزے سے سسکاری اور سمیر کے ہونٹوں کو زور سے چوسنے لگی۔

"اُفف کیا بڑا موٹا مما ہے آپ کا میری بیگم" امی کے بڑے ممے کو اپنے ہاتھ میں دبوچ کر امی کو ہونٹوں کو چومتے اور اپنے کھڑے موٹے سخت لن کو زور سے امی کی گداز چوت پر رگڑتے ہوئے سمیر نے کہا۔

تو ایک مدت بعد اس طرح کے ملنے والے جنسی مزے سے بے حال ہو کر امی کے منہ سے گہری سسکیاں بلند ہونے لگیں۔

سمیر نے کسنگ کے دوران ہی امی کو کمرے میں سجی سہاگ کی سیج کے پاس لے آیا۔

اور امی کو بستر پر لٹا کر ان کے بلاؤز پر سامنے لگے ہوئے بٹنوں کو کھولتے ہوئے بلاؤز کو امی کے جسم سے الگ کر دیا۔

"اُففف کیا خوبصورت اور شاندار ممے ہیں آپ کے"

امی کے موٹے اور بڑے مموں کو ان کے ریڈ پش اپ برا میں کسے ہوئے دیکھ کر سمیر بولا اور ساتھ ہی امی کے برازیئر میں سے باہر کو چھلکتے ہوئے مموں کے اوپر اپنی گرم زبان رکھ کر ان کو جوش کے ساتھ چومنے اور چاٹنے لگا۔

"ہائے کتنے مزے اور جوش سے پیار کرتے ہو تم سمیر" سمیر کو جوش سے اپنے مموں پر زبان پھیرتے دیکھ کر امی نے سسکتے ہوئے سمیر کے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا۔

تو سمیر نے امی کا برازیئر بھی اتار کر ان کے ممے پر موجود امی کے لمبے براؤن نپل کو منہ میں بھر کر چوسنا شروع کر دیا۔

"ہائے کھا جاؤ میرے ممے میری جان" سمیر کے منہ میں اپنا نپل جاتے ہی امی مزے سے سسکیاں بھرتے ہوئے بولیں۔

"عمران دیکھو تمہارا ہندو دوست تمہاری مسلم امی کو کتنے مزے دے رہا ہے" سامنے لگے ٹی وی سکرین پر امی کی گرم سسکیاں سن کر میری بیوی فوزیہ نے میرے کھڑے ہوئے لن کو ہاتھ میں مسلتے ہوئے میرے کان میں سرگوشی کی۔

تو میں امی کے موٹے بھاری مموں کو دیکھ کر مزے سے پاگل ہو گیا۔ اور میرے دل میں خیال آیا۔ کہ کاش سمیر کی جگہ میں اپنی والدہ رخسانہ کے مموں اور نپلوں کو یوں چوس سکتا۔

اِدھر میں یہ سوچ کر پاگل ہو رہا تھا۔ تو دوسری طرف سمیر نے امی کے مموں سے منہ ہٹا کر امی کا لہنگا کھولا اور اتار کر بستر سے نیچے پھینک دیا۔

امی کا لہنگا اترتے ہی ان کا چھوٹے سے تھانگ میں کسا موٹے پھدے کے لپس نظر آنے لگے۔"اففف میری جان کیا موٹی چوت ہے تمہاری" سرخ تھونگ میں کسی امی کی پھدی کو پیاسی نظروں سے دیکھ کر سمیر بولا اور ساتھ ہی امی کا تھونگ بھی اتار پھینکا۔

تھونگ کے چوت سے الگ ہوتے ہی امی کی موٹے لبوں والی پھولی ہوئی شیوڈ چوت سمیر کی نظروں کے سامنے آ گئی۔ جس کے لبوں سے چوت کا پانی چمکتا کمرے میں لگے کیمرے سے مجھے بھی صاف چمکتا نظر آ رہا تھا۔

دیکھو تمہاری ماں کی پھدی تمہارے ہندو یار کے ان کٹ لوڑے سے چدنے کے لیے پوری طرح تیار ہے عمران" امی کی بنا بالوں والی سفید شفاف چوت کے لبوں سے رستا امی کی چوت کے پانی کو دیکھ کر میرے ساتھ لیٹی فوزیہ نے جوش سے کہا اور میرے لن کی تیزی سے نتھ لگنے لگی۔

اسی دوران دوسرے کمرے میں سمیر نے اپنا منہ جھکایا۔ اور امی کی چوت کے اوپر منہ رکھ پھدی کو چوسنے لگا۔

امی چونکہ پرانے زمانے کی عورتیں تھیں۔ جہاں شادی شدہ جوڑے چدائی کے دوران نہ صرف ایک دوسرے کو ننگا دیکھنا بھی معیوب سمجھتے تھے۔

بلکہ اس وقت اورل سیکس کا بھی کوئی تصور نہیں تھا۔ اس لیے ان کی زندگی میں یہ پہلا موقع تھا۔ جب کسی مرد نے ان کی چوت پر اپنا منہ یوں رکھ کر پھدی کو چوس رہا تھا۔

اس لیے سمیر کے اپنی گرم پھدی پر یوں حملے سے امی ایک دم گھبرا کر بولیں۔

"ہائے یہ کیا کر رہے ہو۔ یہ تو پیشاب کرنے والی گندی جگہ ہے۔ اس پر اپنا منہ رکھ کر منہ کو ناپاک نہ کرو سمیر"

امی نے یہ بات کہتے ہوئے اپنی پھدی چاٹتے ہوئے سمیر کے النے کو ہاتھ سے الگ کرنے کی کوشش کی۔ مگر سمیر ان کی بات ان سنی کرتے ہوئے امی کی پھدی کے دونوں لبوں کو ہاتھ سے چوڑا کرتے ہوئے اپنی لمبی زبان کو امی کی پھدی کے دانے پر رکھا اور زور سے چوسنے لگا۔

"ہائے کیا مزیدار سواد ہے تمہاری گرم زبان کا" سمیر کی گرم زبان نے جونہی امی کی پھدی کے چھولے کو چھوا۔ تو امی کی مزاحمت دم توڑ گئی۔ اور اس کے ساتھ ہی امی سمیر کے منہ کو ہٹانے کی بجائے۔ اس کے سر کو ہاتھ میں پکڑ کر اپنی گانڈ کو بستر سے اٹھاتے ہوئے سمیر کے منہ پر زور زور سے مارتے ہوئے مزے سے چلانے لگی۔ "اف سمیر چاٹ کھو میری پھدی میری جان"

"دیکھ لو عمران، میری ساس اور تمہاری امی کیسی ایک رنڈی کی طرح اپنی گانڈ بیڈ سے اٹھا اٹھا کر اپنے ہندو یار کے منہ کو چود رہی ہے" امی کو مزے سے اپنی پھدی سمیر سے چٹواتے دیکھ کر فوزیہ کی پھدی بھی گرم ہوئی۔ تو اس نے بستر پر سیدھا لیٹ کر شلوار کے اوپر سے اپنی چوت سہلاتے ہوئے کہا۔

ادھر دوسری طرف سمیر ابھی تک امی کی چوت کو چاٹنے میں مصروف تھا۔ کہ اس دوران امی سمیر کی گرم اور لمبی زبان کے مزے سے بہال ہوتے ہوئے چلا اٹھیں۔ "اف سمیر اب بس کرو اور میری پھدی میں اپنا لن ڈال کر مجھے دوبارہ سے سہاگن بنا دو میرے سرتاج"

"ہائے میں تو یہ ہی چاہتا تھا، کہ آپ مجھے خود بول کر چودنے کا کہو میری جان"

سمیر نے کچھ دیر مزید مزے سے چوت چاٹتے اور امی کو جنسی مزے کی نئی بلندیوں پر پہنچانے کے بعد سمیر نے امی کی چوت سے اپنا منہ ہٹا کر بستر سے اٹھا کھڑا ہوا اور اپنے کپڑے اتارنے لگا۔

سمیر اپنی شرٹ اور پینٹ اتار کر جونہی امی کے سامنے کمرے میں ننگا ہوا۔

تو اس کے گدھے جیسے موٹے لمبے سخت کھڑے ہوئے لوڑے کو اپنے سامنے ننگا دیکھ کر نہ صرف کمرے میں موجود امی کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں۔

بلکہ میرے ساتھ کمرے میں لیٹی میری اپنی بیوی فوزیہ کا منہ بھی حیرت سے کھل گیا۔ اور فوزیہ کے منہ سے ایک دم نکلا "ہائے میں مر گئی، کتنا شاندار لن ہے سمیر کا" اور اس کے ساتھ ہی فوزیہ سمیر کے لوڑے کو دیکھ کر اپنی چوت میں تیزی سے انگلی کرنے لگی۔

ادھر دوسری طرف کمرے میں امی کی آنکھیں بھی سمیر کے موٹے تگڑے جوان لوڑے کو دیکھ کر کھلی کی کھلی رہ گئیں۔

مگر اس کے ساتھ ہی امی کی نظر سمیر کے لن کے موٹے ٹوپے پر پڑی۔ تو سمیر کی بنا سنتوں والے ان کٹ چمڑی والے لوڑے کو دیکھ کر ایک دم بولیں۔ "یہ کیا؟ تمہارے گھر والوں نے تمہاری سنتیں نہیں کروائی تھیں کیا سمیر
"
"نہیں ہم لوگ مسلم لوگوں کی طرح لن کے آگے والی چمڑی کاٹ کر ختنے نہیں کرتے" امی کی بات کا جواب دیتے ہوئے سمیر نے اپنے پتھر کی طرح سخت لوڑے پر ہاتھ پھیرا۔

اور بستر پر آ کر امی کی کھلی ٹانگوں کے درمیان موجود امی کی پانی پانی ہوئی گرم چوت کے عین اوپر اپنے لن کو رکھ دی
Like Reply
#13
اف کیا مطلب ہم لوگ! کیا تم مسلم مرد نہیں" اپنی چوت پر سمیر کے سخت اور جوان لوڑے کو ٹچ ہوتے محسوس کرتے ہوئے امی کے منہ سے سسکی نکلی۔ اور انہوں نے سمیر سے سوال کیا۔


نہیں میں ایک انڈین ہندو لڑکا ہوں،"جسے آپ کا یہ گرم اور شاندار جسم آپ سے شادی کر کے سہاگ رات منانے کے لیے دبئی سے پاکستان کھینچ لایا ہے۔

اس کے ساتھ ہی اپنے لن کے ٹوپے کو آہستہ آہستہ امی کی گرم چوت کے پھولے ہوئے لبوں پر رگڑتے ہوئے سمیر نے شارٹ الفاظ میں امی کو ساری کہانی بتا دی۔

ہائے تو میرے اپنے سگے بیٹے نے اپنا تھرک پورا کرنے کے لیے اپنی سگی ماں کی شادی ایک انڈین ہندو مرد سے کروا دی ہے امی نے سمیر کی بات سن کر جواب دیا۔ اور اس کے ساتھ ہی سمیر کو اپنے اوپر سے ہٹ جانے کا کہا۔

بات صرف تھرک کی نہیں، بلکہ عمران صحیح معنوں میں یہ چاہتا ہے۔ کہ آپ کو ایک اچھا جوان مرد ملے، جو آپ کی بیوہ زندگی میں پھر سے بہار لا سکے رخسانہ بیگم" یہ کہتے ہوئے سمیر نے اپنے ان کٹ لن کا موٹا ٹوپا ایک بار پھر سے امی کی چوت کے لبوں پر رگڑا۔

تو سمیر کے لن کی ایکسٹرا چمڑی کی رگڑ سے امی کی چوت میں ایک عجیب سی جنسی سنسناہٹ پھیل گئی۔ جو آج سے پہلے امی نے اپنے پہلے شوہر کے لن سے محسوس نہیں کی تھی۔

اوہ سمیر مت کرو ایسے، کیوں کہ تم ہندو ہو اور میں ایک مسلم عورت۔ اس لیے ہماری شادی نہیں ہو سکتی۔ سو پلیز مجھے چھوڑ دو، کیوں کہ میں تمہارے ساتھ ایک بیوی کی حیثیت سے سہاگ رات نہیں منا سکتی" امی نے سمیر کے لن کے مزے کو چوت پر محسوس تو کیا۔

مگر اس کے باوجود سمیر کو مزید آگے بڑھنے سے روکنے کی کوشش کرتے ہوئے بولی۔

رخسانہ بیگم آپ کو پتا ہے۔ کہ عورت اور مرد کے درمیان سب سے بڑا رشتہ لن اور پھدی کا ہوتا ہے۔ اس لیے مذہب کو بھول کر آپ اب اپنی کئی سال سے ترسی ہوئی بیوہ پھدی کو آج میرے لن کا مزہ لینے دو میری جان" یہ کہتے ہوئے سمیر نے ایک بار پھر اپنے چمڑی والے ہندو لن کو میری امی کی پاکیزہ چوت پر زور سے رگڑا۔

تو سمیر کے سخت لوڑے کے مزے سے اب کی بار امی اپنے اوپر قابو نہ رکھ سکی اور مزے سے چلا اٹھی "ہائے کہ تو تم صحیح رہے ہو، کہ عورت اور مرد کے درمیان صرف لن اور چوت کا ہی رشتہ ہوتا ہے، اس لیے سمیر ڈال دو تم بھی اپنا ہندو لن میری پیاسی مسلم چوت کے اندر اور بنا لو مجھے اپنی بیوی میری جان"

یہ کہتے ہوئے امی نے بستر سے اپنی گانڈ اٹھا کر سمیر کے لن کو اپنی پھدی میں ڈالنے کی کوشش کی۔

ہائے آپ کی اس گرم چوت میں اپنا لوڑا ڈالنے کے لیے میں بھی بہت بے تاب ہوں۔ مگر میں نے عمران سے وعدہ کیا تھا۔ کہ میں اسے اپنے ہاتھ سے میرا لوڑا اس کی امی کی پھدی میں ڈالنے کا موقع دوں گا، اس لیے اب میں عمران کو اس کمرے میں آنے کا کہنا چاہتا ہوں" یہ کہتے ہوئے سمیر نے کمرے میں لگے ہوئے کیمرے کی طرف دیکھتے ہوئے مجھے اپنے پاس آنے کا اشارہ کر دیا۔

سمیر کا اشارہ دیکھتے ہی میں دوڑتے ہوئے امی کے کمرے میں چلا گیا۔

جہاں میری والدہ پوری طرح ننگی اپنے ہندو شوہر کے سامنے ٹانگیں چوڑی کیے اپنی دوسری سہاگ رات منانے کے لیے تیار لیٹی ہوئی تھی۔

نہیں نہیں سمیر میں اپنے بیٹے کے سامنے یوں ننگی نہیں ہو سکتی، یہ کیا کر رہے ہو تم دونوں سمیر کی بات سنتے اور مجھے کمرے میں آتے دیکھ کر امی گھبرا گئیں۔ اور بستر کی چادر سے اپنے جسم کو ڈھانپنے کی کوشش کی۔

رخسانہ بیگم تمہارا بیٹا اور بہو دونوں کمرے میں لگے خفیہ کیمروں کی مدد سے نہ صرف تمہارے جسم کا ایک ایک حصہ دیکھ چکے ہیں۔

بلکہ میرے اور تمہارے درمیان اب تک ہونے والی ساری کارروائی کی ریکارڈنگ بھی کر چکے ہیں، اس لیے اپنے بیٹے سے اپنا جسم چھپانے کا اب کوئی فائدہ نہیں میری جان" یہ کہتے ہوئے سمیر نے امی کے ہاتھ سے چادر لے کر پرے پھینک دی۔

جس کی وجہ سے امی کے موٹے ممے اور پھولی ہوئی تازہ شیوڈ چوت میری نظروں کے سامنے ایک بار پھر ننگی ہو گئی۔

سمیر کو امی کے جسم سے چادر اتار کر ان کو ایک بار پھر ننگا ہوتے دیکھ کر میں بیڈ کے نزدیک ہوا۔ اور امی کے موٹے مموں اور موٹے لبوں والی ان کی پھولی ہوئی شیوڈ چوت کو پہلی بار اپنی نظروں کے سامنے ننگا دیکھ کر میں بولا۔

امی میں نے آپ اور سمیر کے درمیان ہونے والا سارا پیار دیکھا ہے اور آپ دونوں کی ساری باتیں سنی ہیں۔ امی میں حقیقت میں چاہتا ہوں، کہ آپ کی بیوہ زندگی میں پھر سے بہار آ جائے۔"اس لیے میں نے سوچ سمجھ کر آپ کے لیے سمیر کا انتخاب کیا، سمیر بے شک ہندو ہے، مگر مجھے یقین ہے، کہ وہ آپ کی پیاسی بیوہ چوت کو وہ مزہ دے گا، جو کوئی مسلم شوہر آپ کو نہیں دے سکتا" یہ بات کہتے ہوئے میں بھی بیڈ پر چڑھ گیا اور اپنے ہاتھ سے سمیر کے موٹے لمبے سخت ہندو لوڑے کو پکڑ کر اپنی والدہ کے موٹے پھدے کے لبوں کے اوپر رکھ کر سمیر سے کہا "ڈال دو کیری پاکستانی ماں کی بیوہ پھدی میں اپنا انڈین لوڑا اور بنا دو میری ماں کی پھدی کو اپنے لن سے ایک بار پھر سہاگن سمیر

سمیر کے چمڑی والے ہندو لن کے موٹے ٹوپے کی میری امی کے پھدے کے لبوں سے پہلی بار رگڑ لگتے ہی امی کے جسم میں ایک عجیب سی نئی لذت پیدا ہو گئی۔

بے شک لن کا اپنی پھدی سے یوں ٹکرانے کا میری امی کا یہ پہلا موقع نہیں تھا۔

مگر اپنے پہلے پاکستانی شوہر کے مسلم ختنے والے لن اور اب اپنے نئے جوان انڈین شوہر کے چمڑے والے ان کٹ ہندو لن کی یہ رگڑ امی کے پیاسے بیوہ پھدے کے لیے ایک بالکل نیا تجربہ تھی۔

یہ ہی وجہ تھی۔ کہ میں نے سمیر کے لن کو اپنے ہاتھ سے پکڑ کر اپنی والدہ کی چوت کے منہ پر رگڑا۔

تو امی کے تن بدن میں ایک عجیب سی سنسناہٹ اور نشہ سا چھا گیا۔ جو امی نے اپنے پہلے شوہر کے لن کو پھدی کے ساتھ ٹکراتے کبھی محسوس نہیں کیا تھا۔ جس کی وجہ سے امی کے منہ سے بے اختیار ایک سرور بھری سسکی نکل گئی۔ "ہائے

امی کی مستی بھری سسکاری سنتے ہی سمیر سمجھ گیا۔ کہ میری امی کی بیوہ چوت اب اس کے ہندو لوڑے کو اپنے اندر لینے اور اس سے چدوانے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔

مگر اس کے باوجود سمیر نے امی کی چوت میں لن ڈالنے کی بجائے ایک بار پھر اوپر سے لن رگڑا۔

"ہائے کیوں ترسا رہے ہو، ڈال بھی دو نا اب اپنا لن میری پھدی میں سمیر" سمیر کے جوان سخت ان کٹ لن کی چمڑی کی رگڑ سے مدہوش ہوتے ہوئے امی نے بستر سے اپنی چوت اوپر اٹھائی۔ اور سمیر کے لمبے موٹے لوڑے کو اپنی پیاسی بیوہ چوت کے اندر لینے کی کوشش کی۔

میں بھی آپ چوت کو چودنے کے لیے تیار ہوں۔ مگر میں ایک شرط پر اپنا لوڑا آپ کی چوت میں ڈالوں گا میری رخسانہ جان" امی کو یوں اپنی گانڈ بستر سے اٹھا کر لن لینے کی ٹرائی کرتے دیکھ کر سمیر نے اپنا لن امی کی پھدی کے منہ سے ہٹا لیا اور بولا۔

شرط کیسی شرط سمیر" سمیر کے لن کو اپنی پھدی سے دور ہوتا دیکھ کر امی نے بے تابی سے پوچھا۔

شرط یہ ہے کہ میں چاہتا ہوں کہ میرا لن ڈالنے سے پہلے عمران آپ کو چوت کو چاٹے اور اسے میرے لن کے لیے تیار کر کے پھر میرا لوڑا اپنے ہاتھ سے آپ کی گرم پھدی میں ڈالے" سمیر نے امی کی کھلی ٹانگوں کے درمیان اپنا لوڑا اپنے ہاتھ سے مسلتے ہوئے امی اور میری طرف دیکھا اور امی کو اپنی شرط سنا دی۔

یہ کیسی بات کر رہے ہو تم سمیر، عمران میرا بیٹا ہے، وہ کیسے میری چوت کو چاٹ سکتا ہے بھلا" سمیر کی بات سن کر امی نے گھبرا کر جواب دیا۔

مجھے پتا ہے کہ عمران آپ کا بیٹا ہے، مگر اس کے باوجود میری طرح وہ بھی آپ کے اس بھاری اور دلکش جسم، آپ کے بڑے مموں اور اٹھی ہوئی چوڑی گانڈ کا عاشق بن چکا ہے اور اس کی یہ خواہش ہے کہ وہ آپ کی پھدی چاٹ کر میرا لوڑا آپ کی چوت میں خود ڈالے" امی کی بات کے جواب میں سمیر نے امی کو ساری بات کھل کر بتا دی۔ تو میری شلوار میں کھڑا ہوا میرا لوڑا پہلے سے زیادہ سخت ہو گیا اور اس کے ساتھ ہی میرے منہ میں پانی بھی آ گیا۔

اس سے پہلے کہ امی سمیر کی بات کا کوئی جواب دیتی یا کوئی ری ایکٹ کرتی۔

میں نے فوراً امی کی کھلی ٹانگوں کے درمیان اپنا منہ رکھا اور اپنے گرم ہونٹوں کو اپنی امی کے پھولے ہوئے چوت کے لپس کے اوپر رکھ کر اپنی لمبی زبان سے امی کی چوت کے دانے کو چوسنے لگا۔

اوہ عمران میں تمہاری ماں ہوں، نہیں کرو ایسے بیٹا" میری گرم زبان اپنی پھدی سے ٹکراتے ہوئے محسوس کر کے امی کو ایک شاک لگا اور انہوں نے مجھے منع کرنے کی کوشش کی۔

مگر میں نے اپنی زبان سے امی کی گرم چوت کو چاٹنا جاری رکھا۔ تو کچھ ہی دیر میں امی کے منہ سے لذت بھری سسکاریاں بلند ہو گئیں۔

پھر امی نے میرے سر کو اپنے ہاتھوں میں پکڑا۔اور بستر سے اپنی گانڈ اٹھا کر میرے منہ پر مارتے ہوئے مزے سے چلا اٹھیں” ہائے چاٹو اور کھا جاؤ میری پھدی عمران اور چاٹ کر پوری طرح تیار کر دو اسے، اپنے نئے ابو کے ہندو لن سے چدوانے کے لیے بیٹا” اپنی پیاسی چوت پر چلتی میری گرم زبان کے مزے اور سمیر کے جواب سخت ان کٹ لوڑے کی طلب نے امی کو اپنے آپ سے بے حال کر دیا۔ تو وہ اپنے جنسی جذبات کی وجہ سے مجبور ہو کر چلا اٹھیں۔
Like Reply
#14
امی کی سسکی بھری فرمائش سنتے ہی میں نے امی کی چوت سے اپنا منہ ہٹا کر سمیر کے گرم اور سخت لوڑے کو ہاتھ سے پکڑ کر امی کی پھدی کے منہ پر رکھ دیا۔

تو سمیر نے ایک زور دار جھٹکا مارا. جس کے ساتھ ہی سمیر کا لمبے موٹے لوڑا کا چمڑی بھرا موٹا ٹوپہ امی کی پھدی کے لبوں کو چیرتا ہوا ان کی گرم بیوہ پھدی میں اترا چلا گیا

تو اس کے ساتھ ہی سمیر نے اپنے منہ کو آگے بڑھا کر امی کے منہ میں ڈالا اور امی سے بولا "آپ کی بیوہ چوت آج پھر سے سہاگن ہو گئی ہے. کیوں کہ آپ کی پاکستانی چوت آج سے انڈین لن کی بیگم بن گئی ہے، اس لیے آپ کی پاکیزہ مسلم پھدی کو اس کے کافر شوہر کے ہندو لن کی طرف سے شادی مبارک ہو میری بیگم

ایک تو بیواگی کے اتنے سالوں بعد میری امی کی پیاسی چوت کو ایک جوان مرد کا نہایت سخت اور تگڑے لن سے پھدی چدوانے کا موقع مل رہا تھا

دوسرا سمیر کے بنا ختنے والے ہندو لن نے میری امی کی پاکیزہ پھدی کے لبوں کو پورا کھول کر چوت کے اندر جاتے ہوئے امی کی پھدی میں جو سنسناہٹ پیدا کی

اس کا سواد آج امی کی پاکیزہ مسلم چوت نے پہلی بار محسوس کیا

جس کی وجہ سے امی کی پھدی کو وہ مزہ ملا کہ ان کی پیاسی چوت ایک دم سے پانی پانی ہو گئی

اور امی اپنی بھاری ٹانگوں کو اٹھا کر سمیر کی کمر کے گرد کستے ہوئے مزے کی شدت سے چلا اٹھیں "اوہ آرام سے ڈالو میری پاکیزہ چوت میں اپنا تگڑا اور مزے دار لوڑا میرے ہندو سرتاج

افف 2 بچے پیدا کرنے کے باوجود آپ کی چوت ابھی تک بہت ٹائٹ ہے میری بیگم" اپنے انڈین لن کو میری والدہ کی بیوہ پاکستانی پھدی میں ڈالتے ہی سمیر کے لن کو وہ مزہ ملا. جو اس کے ہندو لوڑے نے اس سے پہلے کسی اور مسلم چوت سے نہیں لیا تھا

اسی لیے سمیر نے یہ بات کہتے ہوئے جوش اور مزے سے امی کی چوت کو تیزی کے ساتھ [b]چود‏‏
شروع کر دیا

تو سمیر کے لن کے زور دار جھٹکوں کی وجہ سے امی کے بھاری ممے ان کے سینے پر اچھل اچھل کر میرے میں آگ لگانے لگے. اس پر میں نے بھی اپنے کپڑے اتار دیے اور اپنی امی کے سامنے ننگا ہو گیا

مجھے اپنے سامنے یوں بے شرمی سے ننگا ہوتے دیکھ کر امی کی آنکھوں میں حیرت اور شرم کا ملی جلی چمک سی آ گئی

کیوں کہ امی نے پہلی بار میرے ہیرے ہوئے لن کو دیکھا تھا

جو سمیر کے گدھے جیسا موٹے لمبے لن جیسا تو بڑا نہیں تھا

مگر اس کے باوجود اچھے سائز کا موٹا لمبا لن تھا

امی کو یوں شرماتے ہوئے اپنی آنکھیں بند کراتے دیکھ کر مجھے مزہ آیا اور میں نے آگے کر امی کے اچھلتے ہوئے ممے پر ہونٹ رکھے اور امی کے موٹے تھنوں کے اوپر بنے ہوئے ان کے موٹے براؤن نپل کو زبان سے چاٹنے لگا. اور بولا "ہائے امی کتنے شاندار موٹے ممے ہیں. آپ کے

ایک طرف سمیر کا موٹا لمبا ہندو لن میری امی کی پاکیزہ چوت کو زور زور سے چود کر ان کی کئی سالوں کی بیوہ چوت کو پھر سے سہاگن بنا رہا تھا

تو دوسری طرف میں اپنی امی کے بڑے تھنوں کو زبان سے چوس چوس کر ان کی جسم کو جنسی لذت کے نئے مزے سے روشناس کروا رہا تھا

جس کی وجہ سے اب امی کی پھدی اور ماموں کے ساتھ ساتھ پورے بدن میں اوپر سے نیچے تک ایک عجیب سی گرمی پھیل چکی تھی. اور وہ مزے سے میرے سر کو اپنے ممے پر دبا کر بستر سے اپنی گانڈ اٹھا اٹھا کر سمیر کے لن کو پورا اپنی پھدی میں لے کر چدوا رہی تھی

اور ساتھ ہی ساتھ زور سے چلا رہی تھیں "اوہہ سمیر پھاڑ دو میری پھدی اور ڈال دو اپنے لن کا ہندو بیج میری پاکیزہ پھدی میں اور بنا دو مجھے اپنے ہندو بچے کی ماں آج

ہائے رخسانہ بیگم تمہاری تمڈور جیسی گرم پھدی نے میرے لن کو جلا دیا ہے اور میرے لن کا پانی نکلنے والا ہے میری جان" یہ کہتے ہوئے سمیر نے اور تیزی سے زور دار گھسے مارے اور کچھ دیر بعد اپنے ہندو لن کا گرم پانی میری والدہ کی پاکیزہ چوت میں چھوڑ دیا

اوہہہ میری پھدی بھی اپنا پانی چھوڑنے لگی ہے سمیر" جونہی سمیر نے امی کی پھدی میں اپنے لن کا فوارہ کھولا. تو امی نے نیچے سے اپنی گانڈ اوپر اٹھائی

اور سمیر کے لمبے لوڑے کو اپنی کوکھ کی گہرائی تک پہنچنے کا موقع دیتے ہوئے سمیر کا لن کا تھک مادہ اپنی بچہ دانی میں جذب کرنے لگی

چند لمحے امی کی پیاسی چوت کو اپنے سخت لن کے پانی سے سیراب کرنے کے بعد سمیر امی کی پھدی سے اپنا لن نکال کر ان کے برابر بستر پر لیٹ گیا.تو میں نے امی کی کھلی ٹانگوں میں سے دیکھا کہ سمیر کے لن کے گرم پانی سے امی کی پھدی نہ صرف پوری طرح بھری ہوئی ہے۔ بلکہ لن کا پانی چوت سے رس کر باہر بھی نکل رہا تھا۔

سمیر کے لن کے تھک مادے کو یوں امی کی تازہ چدی پھدی سے رستہ دیکھ کر میری رال ٹپک پڑی۔

اور میں نے ایک دم سے امی کی کھلی ٹانگوں کے درمیان اپنے سر کو جھکا کر امی کی پھدی کے منہ پر اپنا منہ رکھا۔ اور سمیر کے لن کے تازہ گرم مادے کو امی کی چوت سے چاٹ کر کھانے لگا۔

اوہ عمران آج مجھے واقعتاً ہی اندازہ ہو گیا ہے۔ کہ تم کتنا پیار کرتے ہو مجھ سے بیٹا، کہ پہلے تم نے میری بیوہ چوت کو دوبارہ سے آباد کرنے کے لیے ایک جوان تگڑے اور شاندار ہندو لن کا انتظام کر کے اپنے ہاتھوں سے میری سہاگ رات منوائی، بلکہ اب میری زبردست چدائی کے بعد اپنے دوست اور نئے ابو کے لن کے گرم پانی بھی میری پھدی سے چاٹ چاٹ کر میری چوت کی صفائی کر رہے ہو، ہائے میں کس منہ سے تمہارا شکریہ ادا کروں میرے بچے" امی یہ بات کہتے ہوئے اپنی گانڈ کو بستر سے اٹھا کر جوش کے مارے زور زور سے میرے منہ پر مارنے لگی[/b]
۔
Like Reply




Users browsing this thread: