06-04-2026, 06:35 AM
اف کیا مطلب ہم لوگ! کیا تم مسلم مرد نہیں" اپنی چوت پر سمیر کے سخت اور جوان لوڑے کو ٹچ ہوتے محسوس کرتے ہوئے امی کے منہ سے سسکی نکلی۔ اور انہوں نے سمیر سے سوال کیا۔
نہیں میں ایک انڈین ہندو لڑکا ہوں،"جسے آپ کا یہ گرم اور شاندار جسم آپ سے شادی کر کے سہاگ رات منانے کے لیے دبئی سے پاکستان کھینچ لایا ہے۔
اس کے ساتھ ہی اپنے لن کے ٹوپے کو آہستہ آہستہ امی کی گرم چوت کے پھولے ہوئے لبوں پر رگڑتے ہوئے سمیر نے شارٹ الفاظ میں امی کو ساری کہانی بتا دی۔
ہائے تو میرے اپنے سگے بیٹے نے اپنا تھرک پورا کرنے کے لیے اپنی سگی ماں کی شادی ایک انڈین ہندو مرد سے کروا دی ہے امی نے سمیر کی بات سن کر جواب دیا۔ اور اس کے ساتھ ہی سمیر کو اپنے اوپر سے ہٹ جانے کا کہا۔
بات صرف تھرک کی نہیں، بلکہ عمران صحیح معنوں میں یہ چاہتا ہے۔ کہ آپ کو ایک اچھا جوان مرد ملے، جو آپ کی بیوہ زندگی میں پھر سے بہار لا سکے رخسانہ بیگم" یہ کہتے ہوئے سمیر نے اپنے ان کٹ لن کا موٹا ٹوپا ایک بار پھر سے امی کی چوت کے لبوں پر رگڑا۔
تو سمیر کے لن کی ایکسٹرا چمڑی کی رگڑ سے امی کی چوت میں ایک عجیب سی جنسی سنسناہٹ پھیل گئی۔ جو آج سے پہلے امی نے اپنے پہلے شوہر کے لن سے محسوس نہیں کی تھی۔
اوہ سمیر مت کرو ایسے، کیوں کہ تم ہندو ہو اور میں ایک مسلم عورت۔ اس لیے ہماری شادی نہیں ہو سکتی۔ سو پلیز مجھے چھوڑ دو، کیوں کہ میں تمہارے ساتھ ایک بیوی کی حیثیت سے سہاگ رات نہیں منا سکتی" امی نے سمیر کے لن کے مزے کو چوت پر محسوس تو کیا۔
مگر اس کے باوجود سمیر کو مزید آگے بڑھنے سے روکنے کی کوشش کرتے ہوئے بولی۔
رخسانہ بیگم آپ کو پتا ہے۔ کہ عورت اور مرد کے درمیان سب سے بڑا رشتہ لن اور پھدی کا ہوتا ہے۔ اس لیے مذہب کو بھول کر آپ اب اپنی کئی سال سے ترسی ہوئی بیوہ پھدی کو آج میرے لن کا مزہ لینے دو میری جان" یہ کہتے ہوئے سمیر نے ایک بار پھر اپنے چمڑی والے ہندو لن کو میری امی کی پاکیزہ چوت پر زور سے رگڑا۔
تو سمیر کے سخت لوڑے کے مزے سے اب کی بار امی اپنے اوپر قابو نہ رکھ سکی اور مزے سے چلا اٹھی "ہائے کہ تو تم صحیح رہے ہو، کہ عورت اور مرد کے درمیان صرف لن اور چوت کا ہی رشتہ ہوتا ہے، اس لیے سمیر ڈال دو تم بھی اپنا ہندو لن میری پیاسی مسلم چوت کے اندر اور بنا لو مجھے اپنی بیوی میری جان"
یہ کہتے ہوئے امی نے بستر سے اپنی گانڈ اٹھا کر سمیر کے لن کو اپنی پھدی میں ڈالنے کی کوشش کی۔
ہائے آپ کی اس گرم چوت میں اپنا لوڑا ڈالنے کے لیے میں بھی بہت بے تاب ہوں۔ مگر میں نے عمران سے وعدہ کیا تھا۔ کہ میں اسے اپنے ہاتھ سے میرا لوڑا اس کی امی کی پھدی میں ڈالنے کا موقع دوں گا، اس لیے اب میں عمران کو اس کمرے میں آنے کا کہنا چاہتا ہوں" یہ کہتے ہوئے سمیر نے کمرے میں لگے ہوئے کیمرے کی طرف دیکھتے ہوئے مجھے اپنے پاس آنے کا اشارہ کر دیا۔
سمیر کا اشارہ دیکھتے ہی میں دوڑتے ہوئے امی کے کمرے میں چلا گیا۔
جہاں میری والدہ پوری طرح ننگی اپنے ہندو شوہر کے سامنے ٹانگیں چوڑی کیے اپنی دوسری سہاگ رات منانے کے لیے تیار لیٹی ہوئی تھی۔
نہیں نہیں سمیر میں اپنے بیٹے کے سامنے یوں ننگی نہیں ہو سکتی، یہ کیا کر رہے ہو تم دونوں سمیر کی بات سنتے اور مجھے کمرے میں آتے دیکھ کر امی گھبرا گئیں۔ اور بستر کی چادر سے اپنے جسم کو ڈھانپنے کی کوشش کی۔
رخسانہ بیگم تمہارا بیٹا اور بہو دونوں کمرے میں لگے خفیہ کیمروں کی مدد سے نہ صرف تمہارے جسم کا ایک ایک حصہ دیکھ چکے ہیں۔
بلکہ میرے اور تمہارے درمیان اب تک ہونے والی ساری کارروائی کی ریکارڈنگ بھی کر چکے ہیں، اس لیے اپنے بیٹے سے اپنا جسم چھپانے کا اب کوئی فائدہ نہیں میری جان" یہ کہتے ہوئے سمیر نے امی کے ہاتھ سے چادر لے کر پرے پھینک دی۔
جس کی وجہ سے امی کے موٹے ممے اور پھولی ہوئی تازہ شیوڈ چوت میری نظروں کے سامنے ایک بار پھر ننگی ہو گئی۔
سمیر کو امی کے جسم سے چادر اتار کر ان کو ایک بار پھر ننگا ہوتے دیکھ کر میں بیڈ کے نزدیک ہوا۔ اور امی کے موٹے مموں اور موٹے لبوں والی ان کی پھولی ہوئی شیوڈ چوت کو پہلی بار اپنی نظروں کے سامنے ننگا دیکھ کر میں بولا۔
امی میں نے آپ اور سمیر کے درمیان ہونے والا سارا پیار دیکھا ہے اور آپ دونوں کی ساری باتیں سنی ہیں۔ امی میں حقیقت میں چاہتا ہوں، کہ آپ کی بیوہ زندگی میں پھر سے بہار آ جائے۔"اس لیے میں نے سوچ سمجھ کر آپ کے لیے سمیر کا انتخاب کیا، سمیر بے شک ہندو ہے، مگر مجھے یقین ہے، کہ وہ آپ کی پیاسی بیوہ چوت کو وہ مزہ دے گا، جو کوئی مسلم شوہر آپ کو نہیں دے سکتا" یہ بات کہتے ہوئے میں بھی بیڈ پر چڑھ گیا اور اپنے ہاتھ سے سمیر کے موٹے لمبے سخت ہندو لوڑے کو پکڑ کر اپنی والدہ کے موٹے پھدے کے لبوں کے اوپر رکھ کر سمیر سے کہا "ڈال دو کیری پاکستانی ماں کی بیوہ پھدی میں اپنا انڈین لوڑا اور بنا دو میری ماں کی پھدی کو اپنے لن سے ایک بار پھر سہاگن سمیر
سمیر کے چمڑی والے ہندو لن کے موٹے ٹوپے کی میری امی کے پھدے کے لبوں سے پہلی بار رگڑ لگتے ہی امی کے جسم میں ایک عجیب سی نئی لذت پیدا ہو گئی۔
بے شک لن کا اپنی پھدی سے یوں ٹکرانے کا میری امی کا یہ پہلا موقع نہیں تھا۔
مگر اپنے پہلے پاکستانی شوہر کے مسلم ختنے والے لن اور اب اپنے نئے جوان انڈین شوہر کے چمڑے والے ان کٹ ہندو لن کی یہ رگڑ امی کے پیاسے بیوہ پھدے کے لیے ایک بالکل نیا تجربہ تھی۔
یہ ہی وجہ تھی۔ کہ میں نے سمیر کے لن کو اپنے ہاتھ سے پکڑ کر اپنی والدہ کی چوت کے منہ پر رگڑا۔
تو امی کے تن بدن میں ایک عجیب سی سنسناہٹ اور نشہ سا چھا گیا۔ جو امی نے اپنے پہلے شوہر کے لن کو پھدی کے ساتھ ٹکراتے کبھی محسوس نہیں کیا تھا۔ جس کی وجہ سے امی کے منہ سے بے اختیار ایک سرور بھری سسکی نکل گئی۔ "ہائے
امی کی مستی بھری سسکاری سنتے ہی سمیر سمجھ گیا۔ کہ میری امی کی بیوہ چوت اب اس کے ہندو لوڑے کو اپنے اندر لینے اور اس سے چدوانے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔
مگر اس کے باوجود سمیر نے امی کی چوت میں لن ڈالنے کی بجائے ایک بار پھر اوپر سے لن رگڑا۔
"ہائے کیوں ترسا رہے ہو، ڈال بھی دو نا اب اپنا لن میری پھدی میں سمیر" سمیر کے جوان سخت ان کٹ لن کی چمڑی کی رگڑ سے مدہوش ہوتے ہوئے امی نے بستر سے اپنی چوت اوپر اٹھائی۔ اور سمیر کے لمبے موٹے لوڑے کو اپنی پیاسی بیوہ چوت کے اندر لینے کی کوشش کی۔
میں بھی آپ چوت کو چودنے کے لیے تیار ہوں۔ مگر میں ایک شرط پر اپنا لوڑا آپ کی چوت میں ڈالوں گا میری رخسانہ جان" امی کو یوں اپنی گانڈ بستر سے اٹھا کر لن لینے کی ٹرائی کرتے دیکھ کر سمیر نے اپنا لن امی کی پھدی کے منہ سے ہٹا لیا اور بولا۔
شرط کیسی شرط سمیر" سمیر کے لن کو اپنی پھدی سے دور ہوتا دیکھ کر امی نے بے تابی سے پوچھا۔
شرط یہ ہے کہ میں چاہتا ہوں کہ میرا لن ڈالنے سے پہلے عمران آپ کو چوت کو چاٹے اور اسے میرے لن کے لیے تیار کر کے پھر میرا لوڑا اپنے ہاتھ سے آپ کی گرم پھدی میں ڈالے" سمیر نے امی کی کھلی ٹانگوں کے درمیان اپنا لوڑا اپنے ہاتھ سے مسلتے ہوئے امی اور میری طرف دیکھا اور امی کو اپنی شرط سنا دی۔
یہ کیسی بات کر رہے ہو تم سمیر، عمران میرا بیٹا ہے، وہ کیسے میری چوت کو چاٹ سکتا ہے بھلا" سمیر کی بات سن کر امی نے گھبرا کر جواب دیا۔
مجھے پتا ہے کہ عمران آپ کا بیٹا ہے، مگر اس کے باوجود میری طرح وہ بھی آپ کے اس بھاری اور دلکش جسم، آپ کے بڑے مموں اور اٹھی ہوئی چوڑی گانڈ کا عاشق بن چکا ہے اور اس کی یہ خواہش ہے کہ وہ آپ کی پھدی چاٹ کر میرا لوڑا آپ کی چوت میں خود ڈالے" امی کی بات کے جواب میں سمیر نے امی کو ساری بات کھل کر بتا دی۔ تو میری شلوار میں کھڑا ہوا میرا لوڑا پہلے سے زیادہ سخت ہو گیا اور اس کے ساتھ ہی میرے منہ میں پانی بھی آ گیا۔
اس سے پہلے کہ امی سمیر کی بات کا کوئی جواب دیتی یا کوئی ری ایکٹ کرتی۔
میں نے فوراً امی کی کھلی ٹانگوں کے درمیان اپنا منہ رکھا اور اپنے گرم ہونٹوں کو اپنی امی کے پھولے ہوئے چوت کے لپس کے اوپر رکھ کر اپنی لمبی زبان سے امی کی چوت کے دانے کو چوسنے لگا۔
اوہ عمران میں تمہاری ماں ہوں، نہیں کرو ایسے بیٹا" میری گرم زبان اپنی پھدی سے ٹکراتے ہوئے محسوس کر کے امی کو ایک شاک لگا اور انہوں نے مجھے منع کرنے کی کوشش کی۔
مگر میں نے اپنی زبان سے امی کی گرم چوت کو چاٹنا جاری رکھا۔ تو کچھ ہی دیر میں امی کے منہ سے لذت بھری سسکاریاں بلند ہو گئیں۔
پھر امی نے میرے سر کو اپنے ہاتھوں میں پکڑا۔اور بستر سے اپنی گانڈ اٹھا کر میرے منہ پر مارتے ہوئے مزے سے چلا اٹھیں” ہائے چاٹو اور کھا جاؤ میری پھدی عمران اور چاٹ کر پوری طرح تیار کر دو اسے، اپنے نئے ابو کے ہندو لن سے چدوانے کے لیے بیٹا” اپنی پیاسی چوت پر چلتی میری گرم زبان کے مزے اور سمیر کے جواب سخت ان کٹ لوڑے کی طلب نے امی کو اپنے آپ سے بے حال کر دیا۔ تو وہ اپنے جنسی جذبات کی وجہ سے مجبور ہو کر چلا اٹھیں۔
نہیں میں ایک انڈین ہندو لڑکا ہوں،"جسے آپ کا یہ گرم اور شاندار جسم آپ سے شادی کر کے سہاگ رات منانے کے لیے دبئی سے پاکستان کھینچ لایا ہے۔
اس کے ساتھ ہی اپنے لن کے ٹوپے کو آہستہ آہستہ امی کی گرم چوت کے پھولے ہوئے لبوں پر رگڑتے ہوئے سمیر نے شارٹ الفاظ میں امی کو ساری کہانی بتا دی۔
ہائے تو میرے اپنے سگے بیٹے نے اپنا تھرک پورا کرنے کے لیے اپنی سگی ماں کی شادی ایک انڈین ہندو مرد سے کروا دی ہے امی نے سمیر کی بات سن کر جواب دیا۔ اور اس کے ساتھ ہی سمیر کو اپنے اوپر سے ہٹ جانے کا کہا۔
بات صرف تھرک کی نہیں، بلکہ عمران صحیح معنوں میں یہ چاہتا ہے۔ کہ آپ کو ایک اچھا جوان مرد ملے، جو آپ کی بیوہ زندگی میں پھر سے بہار لا سکے رخسانہ بیگم" یہ کہتے ہوئے سمیر نے اپنے ان کٹ لن کا موٹا ٹوپا ایک بار پھر سے امی کی چوت کے لبوں پر رگڑا۔
تو سمیر کے لن کی ایکسٹرا چمڑی کی رگڑ سے امی کی چوت میں ایک عجیب سی جنسی سنسناہٹ پھیل گئی۔ جو آج سے پہلے امی نے اپنے پہلے شوہر کے لن سے محسوس نہیں کی تھی۔
اوہ سمیر مت کرو ایسے، کیوں کہ تم ہندو ہو اور میں ایک مسلم عورت۔ اس لیے ہماری شادی نہیں ہو سکتی۔ سو پلیز مجھے چھوڑ دو، کیوں کہ میں تمہارے ساتھ ایک بیوی کی حیثیت سے سہاگ رات نہیں منا سکتی" امی نے سمیر کے لن کے مزے کو چوت پر محسوس تو کیا۔
مگر اس کے باوجود سمیر کو مزید آگے بڑھنے سے روکنے کی کوشش کرتے ہوئے بولی۔
رخسانہ بیگم آپ کو پتا ہے۔ کہ عورت اور مرد کے درمیان سب سے بڑا رشتہ لن اور پھدی کا ہوتا ہے۔ اس لیے مذہب کو بھول کر آپ اب اپنی کئی سال سے ترسی ہوئی بیوہ پھدی کو آج میرے لن کا مزہ لینے دو میری جان" یہ کہتے ہوئے سمیر نے ایک بار پھر اپنے چمڑی والے ہندو لن کو میری امی کی پاکیزہ چوت پر زور سے رگڑا۔
تو سمیر کے سخت لوڑے کے مزے سے اب کی بار امی اپنے اوپر قابو نہ رکھ سکی اور مزے سے چلا اٹھی "ہائے کہ تو تم صحیح رہے ہو، کہ عورت اور مرد کے درمیان صرف لن اور چوت کا ہی رشتہ ہوتا ہے، اس لیے سمیر ڈال دو تم بھی اپنا ہندو لن میری پیاسی مسلم چوت کے اندر اور بنا لو مجھے اپنی بیوی میری جان"
یہ کہتے ہوئے امی نے بستر سے اپنی گانڈ اٹھا کر سمیر کے لن کو اپنی پھدی میں ڈالنے کی کوشش کی۔
ہائے آپ کی اس گرم چوت میں اپنا لوڑا ڈالنے کے لیے میں بھی بہت بے تاب ہوں۔ مگر میں نے عمران سے وعدہ کیا تھا۔ کہ میں اسے اپنے ہاتھ سے میرا لوڑا اس کی امی کی پھدی میں ڈالنے کا موقع دوں گا، اس لیے اب میں عمران کو اس کمرے میں آنے کا کہنا چاہتا ہوں" یہ کہتے ہوئے سمیر نے کمرے میں لگے ہوئے کیمرے کی طرف دیکھتے ہوئے مجھے اپنے پاس آنے کا اشارہ کر دیا۔
سمیر کا اشارہ دیکھتے ہی میں دوڑتے ہوئے امی کے کمرے میں چلا گیا۔
جہاں میری والدہ پوری طرح ننگی اپنے ہندو شوہر کے سامنے ٹانگیں چوڑی کیے اپنی دوسری سہاگ رات منانے کے لیے تیار لیٹی ہوئی تھی۔
نہیں نہیں سمیر میں اپنے بیٹے کے سامنے یوں ننگی نہیں ہو سکتی، یہ کیا کر رہے ہو تم دونوں سمیر کی بات سنتے اور مجھے کمرے میں آتے دیکھ کر امی گھبرا گئیں۔ اور بستر کی چادر سے اپنے جسم کو ڈھانپنے کی کوشش کی۔
رخسانہ بیگم تمہارا بیٹا اور بہو دونوں کمرے میں لگے خفیہ کیمروں کی مدد سے نہ صرف تمہارے جسم کا ایک ایک حصہ دیکھ چکے ہیں۔
بلکہ میرے اور تمہارے درمیان اب تک ہونے والی ساری کارروائی کی ریکارڈنگ بھی کر چکے ہیں، اس لیے اپنے بیٹے سے اپنا جسم چھپانے کا اب کوئی فائدہ نہیں میری جان" یہ کہتے ہوئے سمیر نے امی کے ہاتھ سے چادر لے کر پرے پھینک دی۔
جس کی وجہ سے امی کے موٹے ممے اور پھولی ہوئی تازہ شیوڈ چوت میری نظروں کے سامنے ایک بار پھر ننگی ہو گئی۔
سمیر کو امی کے جسم سے چادر اتار کر ان کو ایک بار پھر ننگا ہوتے دیکھ کر میں بیڈ کے نزدیک ہوا۔ اور امی کے موٹے مموں اور موٹے لبوں والی ان کی پھولی ہوئی شیوڈ چوت کو پہلی بار اپنی نظروں کے سامنے ننگا دیکھ کر میں بولا۔
امی میں نے آپ اور سمیر کے درمیان ہونے والا سارا پیار دیکھا ہے اور آپ دونوں کی ساری باتیں سنی ہیں۔ امی میں حقیقت میں چاہتا ہوں، کہ آپ کی بیوہ زندگی میں پھر سے بہار آ جائے۔"اس لیے میں نے سوچ سمجھ کر آپ کے لیے سمیر کا انتخاب کیا، سمیر بے شک ہندو ہے، مگر مجھے یقین ہے، کہ وہ آپ کی پیاسی بیوہ چوت کو وہ مزہ دے گا، جو کوئی مسلم شوہر آپ کو نہیں دے سکتا" یہ بات کہتے ہوئے میں بھی بیڈ پر چڑھ گیا اور اپنے ہاتھ سے سمیر کے موٹے لمبے سخت ہندو لوڑے کو پکڑ کر اپنی والدہ کے موٹے پھدے کے لبوں کے اوپر رکھ کر سمیر سے کہا "ڈال دو کیری پاکستانی ماں کی بیوہ پھدی میں اپنا انڈین لوڑا اور بنا دو میری ماں کی پھدی کو اپنے لن سے ایک بار پھر سہاگن سمیر
سمیر کے چمڑی والے ہندو لن کے موٹے ٹوپے کی میری امی کے پھدے کے لبوں سے پہلی بار رگڑ لگتے ہی امی کے جسم میں ایک عجیب سی نئی لذت پیدا ہو گئی۔
بے شک لن کا اپنی پھدی سے یوں ٹکرانے کا میری امی کا یہ پہلا موقع نہیں تھا۔
مگر اپنے پہلے پاکستانی شوہر کے مسلم ختنے والے لن اور اب اپنے نئے جوان انڈین شوہر کے چمڑے والے ان کٹ ہندو لن کی یہ رگڑ امی کے پیاسے بیوہ پھدے کے لیے ایک بالکل نیا تجربہ تھی۔
یہ ہی وجہ تھی۔ کہ میں نے سمیر کے لن کو اپنے ہاتھ سے پکڑ کر اپنی والدہ کی چوت کے منہ پر رگڑا۔
تو امی کے تن بدن میں ایک عجیب سی سنسناہٹ اور نشہ سا چھا گیا۔ جو امی نے اپنے پہلے شوہر کے لن کو پھدی کے ساتھ ٹکراتے کبھی محسوس نہیں کیا تھا۔ جس کی وجہ سے امی کے منہ سے بے اختیار ایک سرور بھری سسکی نکل گئی۔ "ہائے
امی کی مستی بھری سسکاری سنتے ہی سمیر سمجھ گیا۔ کہ میری امی کی بیوہ چوت اب اس کے ہندو لوڑے کو اپنے اندر لینے اور اس سے چدوانے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔
مگر اس کے باوجود سمیر نے امی کی چوت میں لن ڈالنے کی بجائے ایک بار پھر اوپر سے لن رگڑا۔
"ہائے کیوں ترسا رہے ہو، ڈال بھی دو نا اب اپنا لن میری پھدی میں سمیر" سمیر کے جوان سخت ان کٹ لن کی چمڑی کی رگڑ سے مدہوش ہوتے ہوئے امی نے بستر سے اپنی چوت اوپر اٹھائی۔ اور سمیر کے لمبے موٹے لوڑے کو اپنی پیاسی بیوہ چوت کے اندر لینے کی کوشش کی۔
میں بھی آپ چوت کو چودنے کے لیے تیار ہوں۔ مگر میں ایک شرط پر اپنا لوڑا آپ کی چوت میں ڈالوں گا میری رخسانہ جان" امی کو یوں اپنی گانڈ بستر سے اٹھا کر لن لینے کی ٹرائی کرتے دیکھ کر سمیر نے اپنا لن امی کی پھدی کے منہ سے ہٹا لیا اور بولا۔
شرط کیسی شرط سمیر" سمیر کے لن کو اپنی پھدی سے دور ہوتا دیکھ کر امی نے بے تابی سے پوچھا۔
شرط یہ ہے کہ میں چاہتا ہوں کہ میرا لن ڈالنے سے پہلے عمران آپ کو چوت کو چاٹے اور اسے میرے لن کے لیے تیار کر کے پھر میرا لوڑا اپنے ہاتھ سے آپ کی گرم پھدی میں ڈالے" سمیر نے امی کی کھلی ٹانگوں کے درمیان اپنا لوڑا اپنے ہاتھ سے مسلتے ہوئے امی اور میری طرف دیکھا اور امی کو اپنی شرط سنا دی۔
یہ کیسی بات کر رہے ہو تم سمیر، عمران میرا بیٹا ہے، وہ کیسے میری چوت کو چاٹ سکتا ہے بھلا" سمیر کی بات سن کر امی نے گھبرا کر جواب دیا۔
مجھے پتا ہے کہ عمران آپ کا بیٹا ہے، مگر اس کے باوجود میری طرح وہ بھی آپ کے اس بھاری اور دلکش جسم، آپ کے بڑے مموں اور اٹھی ہوئی چوڑی گانڈ کا عاشق بن چکا ہے اور اس کی یہ خواہش ہے کہ وہ آپ کی پھدی چاٹ کر میرا لوڑا آپ کی چوت میں خود ڈالے" امی کی بات کے جواب میں سمیر نے امی کو ساری بات کھل کر بتا دی۔ تو میری شلوار میں کھڑا ہوا میرا لوڑا پہلے سے زیادہ سخت ہو گیا اور اس کے ساتھ ہی میرے منہ میں پانی بھی آ گیا۔
اس سے پہلے کہ امی سمیر کی بات کا کوئی جواب دیتی یا کوئی ری ایکٹ کرتی۔
میں نے فوراً امی کی کھلی ٹانگوں کے درمیان اپنا منہ رکھا اور اپنے گرم ہونٹوں کو اپنی امی کے پھولے ہوئے چوت کے لپس کے اوپر رکھ کر اپنی لمبی زبان سے امی کی چوت کے دانے کو چوسنے لگا۔
اوہ عمران میں تمہاری ماں ہوں، نہیں کرو ایسے بیٹا" میری گرم زبان اپنی پھدی سے ٹکراتے ہوئے محسوس کر کے امی کو ایک شاک لگا اور انہوں نے مجھے منع کرنے کی کوشش کی۔
مگر میں نے اپنی زبان سے امی کی گرم چوت کو چاٹنا جاری رکھا۔ تو کچھ ہی دیر میں امی کے منہ سے لذت بھری سسکاریاں بلند ہو گئیں۔
پھر امی نے میرے سر کو اپنے ہاتھوں میں پکڑا۔اور بستر سے اپنی گانڈ اٹھا کر میرے منہ پر مارتے ہوئے مزے سے چلا اٹھیں” ہائے چاٹو اور کھا جاؤ میری پھدی عمران اور چاٹ کر پوری طرح تیار کر دو اسے، اپنے نئے ابو کے ہندو لن سے چدوانے کے لیے بیٹا” اپنی پیاسی چوت پر چلتی میری گرم زبان کے مزے اور سمیر کے جواب سخت ان کٹ لوڑے کی طلب نے امی کو اپنے آپ سے بے حال کر دیا۔ تو وہ اپنے جنسی جذبات کی وجہ سے مجبور ہو کر چلا اٹھیں۔


![[+]](https://xossipy.com/themes/sharepoint/collapse_collapsed.png)