Thread Rating:
  • 0 Vote(s) - 0 Average
  • 1
  • 2
  • 3
  • 4
  • 5

Adultery ہندو لن کی پیاس
#12

نکاح کی رسم ادا کرنے کے بعد مولوی صاحب اور گواہ چلے گئے۔ تو میں نے فوزیہ کو آواز دی کہ میں اور سمیر امی کے کمرے میں آ رہے ہیں۔


ہم دونوں ایک ساتھ کمرے میں گئے۔ تو سمیر نے امی اور فوزیہ کو سلام کیا۔

سمیر کو دیکھتے ہی میری بیوی فوزیہ کی آنکھوں میں بھی ایک جنسی چمک آ گئی۔

جسے دیکھ کر میں فوراً سمجھ گیا۔ کہ سمیر کو یوں اپنے سامنے دیکھ کر امی تو امی میری اپنی بیوی کی چوت گرم ہو کر پانی چھوڑنے لگی ہے اس وقت۔

میرے اور سمیر کے کمرے میں انٹر ہونے کے بعد فوزیہ امی کے پاس سے اٹھ گئی۔

تو میں نے سمیر کو امی کے پاس صوفے پر بٹھا دیا۔

سمیر نے امی کے ساتھ بیٹھتے ہی امی کے چہرے پر پڑی چادر کو اٹھایا۔ تو امی کا میک اپ سے سجا چہرہ ہم سب کے سامنے آ گیا۔

سمیر اور امی کی آنکھیں اصل میں جب آج آپس میں چار ہوئیں۔ تو امی کو دیکھتے ہی سمیر بولا "ماشاءاللہ

سمیر کے منہ سے امی کی تعریف سن کر میں اور فوزیہ مسکرانے لگے۔ جب کہ امی نے سولہ سالہ لڑکی کی طرح شرما کر اپنا منہ نیچے کر لیا۔

امی کو یوں شرماتے دیکھ کر سمیر بھی ہلکا سا مسکرایا اور اس کے ساتھ ہی اس نے امی کے جسم کے گرد لپٹی چادر کو بھی اتار کر سامنے پڑے ٹیبل پر رکھ دیا۔

امی کے جسم سے چادر ہٹتے ہی سمیر کے بھیجے ہوئے لہنگے میں امی کا بھرا ہوا جسم جوں ہی میرے اور سمیر کے سامنے نمایاں ہوا۔

تو امی کے پہنے ہوئے لہنگے کے کھلے گلے سے پش اپ برا کی وجہ سے باہر کو چھلکتے امی کے بڑے بڑے گداز مموں کو دیکھتے ہی سمیر کے ساتھ ساتھ میرا اپنا لن بھی کھڑا ہو گیا۔ میری امی کے موٹے بھاری مموں کو اپنی نظروں کے عین سامنے اتنا قریب یوں چولی میں سے باہر چھلکتے دیکھ کر سمیر کے منہ سے ایک دم نکلا "افف آپ کے یہ حسن واہ سبحان اللہ

سمیر بے شک ایک انڈین ہندو تھا۔ مگر کافی ٹائم دبئی میں رہنے کی وجہ سے اس نے کافی عربی جملے سیکھ لیے تھے۔

جن کا وہ اس موقع پر بہت اچھا استعمال کر رہا تھا۔

اپنے نئے جوان شوہر کے منہ سے اپنے عمر رسیدہ حسن کی تعریف سنتے ہی امی کی پہلے سے گرم چوت مزید گرم ہونے لگی اور انہوں نے شرما کر مسکراتے ہوئے اپنی آنکھیں جھکا لیں۔

مگر اس کے باوجود انہیں اپنے سامنے کھڑے اپنے جوان بیٹے کو اپنے مموں کا یوں کھلا نظارہ کروانے میں کوئی جھجک محسوس نہیں کی۔

عمران رات کافی ہو گئی ہے۔ اس لیے اب ہمیں اپنے کمرے میں جانا چاہیے۔

فوزیہ نے جب مجھے ٹکٹکی باندھے امی کے بلاؤز میں سے چھلکتے ہوئے مموں کا نظارہ کرتا دیکھا۔ تو اس نے مجھے اپنے کمرے میں جانے کا مشورہ دیا۔

اس بات کا مطلب یہ تھا۔ کہ اب نکلو یہاں سے۔ تا کہ سمیر اب امی کے ساتھ سہاگ منا سکے۔

اپنی بیوی کی بات پر عمل کرتے ہوئے۔ میں اور فوزیہ سمیر کو امی کے کمرے میں چھوڑ کر جوں ہی کمرے سے باہر نکلنے لگے۔

تو باہر نکلتے ہی میں نے مڑ کر سمیر کی طرف دیکھتے ہوئے زور سے کہا۔ "اچھا ہم اپنے کمرے میں سونے کے لیے جا رہے اب، مگر تم سونا مت، کیوں تمہارا صبح ولیمہ ہے، اس لیے تم سونے کی بجائے اس بات کو یقینی بناؤ کہ کل کا تمہارا ولیمہ جائز ہو"

یہ بات کہتے ہوئے میں نے امی کی طرف بھی دیکھا۔ تو میری بات سنتے ہی امی کے چہرے پر شرم کے مارے ایک ہلکی سی مسکراہٹ آ گئی۔

کیوں کہ میری بات سنتے ہی امی کو سمجھ آ گئی تھی کہ ان کا بیٹا کھلے لفظوں میں سمیر کو کہہ رہا تھا۔ کہ آج رات میری ماں کی پھدی میں لن ڈال کر اسے ہر حال میں چودنا اور میری امی کی چوت کی پیاس بجھانا۔ تا کہ کل ہونے والا ان کا ولیمہ جائز ہو سکے۔

"تم فکر مت کرو، اتنی خوبصورت شکل اور اتنے بھرپور اور مست بدن والی بیوی ملی ہو، تو کون کمبخت سونا چاہے گا پھر دوست" یہ کہتے ہوئے سمیر امی کے پاس سے اٹھ کر دروازے تک آیا۔اور دروازہ بند تو کر دیا۔ مگر اس نے دروازے کو کنڈی نہیں لگائی۔

سمیر کے دروازہ بند کرتے ہی میں اور فوزیہ تقریباً دوڑتے ہوئے اپنے روم میں گئے۔ اور اپنے کمرے کا ڈور بند کرتے ساتھ ہی ہم دونوں میاں بیوی نے ایک دم سے اپنے سارے کپڑے اتارے اور ننگی حالت میں اپنے بیڈ پر لیٹ گئے۔

بستر پر لیٹتے ساتھ ہی میں اپنے کمرے میں لگے ٹی وی کو آن کیا۔ اور امی کے بیڈ روم میں لگے ہوئے خفیہ کیمرہ کے ذریعے امی اور سمیر کی سہاگ رات کا منظر دیکھنے لگے۔

اُدھر امی کے کمرے میں سمیر ڈور بند کر کے آہستہ آہستہ چلتا ہوا صوفے پر بیٹھی امی کے پاس واپس آیا اور صوفے پر بیٹھی امی کو ہاتھ سے پکڑ کر صوفے سے اٹھا دیا۔

"آپ تو حقیقت میں فوٹوز اور ویڈیو کال سے بھی زیادہ حسین، جوان اور سیکسی ہو، بلکہ سچ پوچھو تو آپ کی اس گرم جوانی کو اپنے سامنے دیکھ کر مجھے اپنی قسمت پر رشک آ رہا میری جان" سمیر نے اپنے سامنے کھڑی میری امی رخسانہ کو اپنی باہوں میں بھر کر اپنی جوان چوڑی چھاتی سے لگایا۔

تو امی کے بڑے اور گداز ممے سمیر کی سخت اور چوڑی چھاتی میں جذب ہوئے۔ تو نیچے سے سمیر کی پینٹ میں اس کا کھڑا ہوا سخت لن امی کے لہنگے کے اوپر سے امی کی کئی سالوں کی بیوہ پھدی کے پھولے ہوئے لبوں سے ٹکرا گیا۔

"اُفف سیی" اپنی پیاسی پھدی کے لبوں پر اپنے نئے جوان شوہر کے موٹے سخت لن کو محسوس کرتے ہی امی نے لذت بھری سسکی لیتے ہوئے اپنا منہ کھولا۔

تو سمیر نے موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے جوان سخت ہونٹوں کو امی کے ملائم پیاسے ہونٹوں پر رکھ دیا۔ اور اپنے ہونٹوں سے امی کے ہونٹ چوسنے اور چاٹنے لگا۔

امی کے ہونٹوں کو چوستے ہوئے سمیر نے بلاؤز کے اوپر سے امی کے موٹے ممے کو اپنے ہاتھ میں قابو کر کے زور سے مسلا۔

تو اپنی بھاری چھاتی پر آج مدت بعد کسی مرد کے ہاتھ محسوس کرتے ہی امی مزے سے سسکاری اور سمیر کے ہونٹوں کو زور سے چوسنے لگی۔

"اُفف کیا بڑا موٹا مما ہے آپ کا میری بیگم" امی کے بڑے ممے کو اپنے ہاتھ میں دبوچ کر امی کو ہونٹوں کو چومتے اور اپنے کھڑے موٹے سخت لن کو زور سے امی کی گداز چوت پر رگڑتے ہوئے سمیر نے کہا۔

تو ایک مدت بعد اس طرح کے ملنے والے جنسی مزے سے بے حال ہو کر امی کے منہ سے گہری سسکیاں بلند ہونے لگیں۔

سمیر نے کسنگ کے دوران ہی امی کو کمرے میں سجی سہاگ کی سیج کے پاس لے آیا۔

اور امی کو بستر پر لٹا کر ان کے بلاؤز پر سامنے لگے ہوئے بٹنوں کو کھولتے ہوئے بلاؤز کو امی کے جسم سے الگ کر دیا۔

"اُففف کیا خوبصورت اور شاندار ممے ہیں آپ کے"

امی کے موٹے اور بڑے مموں کو ان کے ریڈ پش اپ برا میں کسے ہوئے دیکھ کر سمیر بولا اور ساتھ ہی امی کے برازیئر میں سے باہر کو چھلکتے ہوئے مموں کے اوپر اپنی گرم زبان رکھ کر ان کو جوش کے ساتھ چومنے اور چاٹنے لگا۔

"ہائے کتنے مزے اور جوش سے پیار کرتے ہو تم سمیر" سمیر کو جوش سے اپنے مموں پر زبان پھیرتے دیکھ کر امی نے سسکتے ہوئے سمیر کے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا۔

تو سمیر نے امی کا برازیئر بھی اتار کر ان کے ممے پر موجود امی کے لمبے براؤن نپل کو منہ میں بھر کر چوسنا شروع کر دیا۔

"ہائے کھا جاؤ میرے ممے میری جان" سمیر کے منہ میں اپنا نپل جاتے ہی امی مزے سے سسکیاں بھرتے ہوئے بولیں۔

"عمران دیکھو تمہارا ہندو دوست تمہاری مسلم امی کو کتنے مزے دے رہا ہے" سامنے لگے ٹی وی سکرین پر امی کی گرم سسکیاں سن کر میری بیوی فوزیہ نے میرے کھڑے ہوئے لن کو ہاتھ میں مسلتے ہوئے میرے کان میں سرگوشی کی۔

تو میں امی کے موٹے بھاری مموں کو دیکھ کر مزے سے پاگل ہو گیا۔ اور میرے دل میں خیال آیا۔ کہ کاش سمیر کی جگہ میں اپنی والدہ رخسانہ کے مموں اور نپلوں کو یوں چوس سکتا۔

اِدھر میں یہ سوچ کر پاگل ہو رہا تھا۔ تو دوسری طرف سمیر نے امی کے مموں سے منہ ہٹا کر امی کا لہنگا کھولا اور اتار کر بستر سے نیچے پھینک دیا۔

امی کا لہنگا اترتے ہی ان کا چھوٹے سے تھانگ میں کسا موٹے پھدے کے لپس نظر آنے لگے۔"اففف میری جان کیا موٹی چوت ہے تمہاری" سرخ تھونگ میں کسی امی کی پھدی کو پیاسی نظروں سے دیکھ کر سمیر بولا اور ساتھ ہی امی کا تھونگ بھی اتار پھینکا۔

تھونگ کے چوت سے الگ ہوتے ہی امی کی موٹے لبوں والی پھولی ہوئی شیوڈ چوت سمیر کی نظروں کے سامنے آ گئی۔ جس کے لبوں سے چوت کا پانی چمکتا کمرے میں لگے کیمرے سے مجھے بھی صاف چمکتا نظر آ رہا تھا۔

دیکھو تمہاری ماں کی پھدی تمہارے ہندو یار کے ان کٹ لوڑے سے چدنے کے لیے پوری طرح تیار ہے عمران" امی کی بنا بالوں والی سفید شفاف چوت کے لبوں سے رستا امی کی چوت کے پانی کو دیکھ کر میرے ساتھ لیٹی فوزیہ نے جوش سے کہا اور میرے لن کی تیزی سے نتھ لگنے لگی۔

اسی دوران دوسرے کمرے میں سمیر نے اپنا منہ جھکایا۔ اور امی کی چوت کے اوپر منہ رکھ پھدی کو چوسنے لگا۔

امی چونکہ پرانے زمانے کی عورتیں تھیں۔ جہاں شادی شدہ جوڑے چدائی کے دوران نہ صرف ایک دوسرے کو ننگا دیکھنا بھی معیوب سمجھتے تھے۔

بلکہ اس وقت اورل سیکس کا بھی کوئی تصور نہیں تھا۔ اس لیے ان کی زندگی میں یہ پہلا موقع تھا۔ جب کسی مرد نے ان کی چوت پر اپنا منہ یوں رکھ کر پھدی کو چوس رہا تھا۔

اس لیے سمیر کے اپنی گرم پھدی پر یوں حملے سے امی ایک دم گھبرا کر بولیں۔

"ہائے یہ کیا کر رہے ہو۔ یہ تو پیشاب کرنے والی گندی جگہ ہے۔ اس پر اپنا منہ رکھ کر منہ کو ناپاک نہ کرو سمیر"

امی نے یہ بات کہتے ہوئے اپنی پھدی چاٹتے ہوئے سمیر کے النے کو ہاتھ سے الگ کرنے کی کوشش کی۔ مگر سمیر ان کی بات ان سنی کرتے ہوئے امی کی پھدی کے دونوں لبوں کو ہاتھ سے چوڑا کرتے ہوئے اپنی لمبی زبان کو امی کی پھدی کے دانے پر رکھا اور زور سے چوسنے لگا۔

"ہائے کیا مزیدار سواد ہے تمہاری گرم زبان کا" سمیر کی گرم زبان نے جونہی امی کی پھدی کے چھولے کو چھوا۔ تو امی کی مزاحمت دم توڑ گئی۔ اور اس کے ساتھ ہی امی سمیر کے منہ کو ہٹانے کی بجائے۔ اس کے سر کو ہاتھ میں پکڑ کر اپنی گانڈ کو بستر سے اٹھاتے ہوئے سمیر کے منہ پر زور زور سے مارتے ہوئے مزے سے چلانے لگی۔ "اف سمیر چاٹ کھو میری پھدی میری جان"

"دیکھ لو عمران، میری ساس اور تمہاری امی کیسی ایک رنڈی کی طرح اپنی گانڈ بیڈ سے اٹھا اٹھا کر اپنے ہندو یار کے منہ کو چود رہی ہے" امی کو مزے سے اپنی پھدی سمیر سے چٹواتے دیکھ کر فوزیہ کی پھدی بھی گرم ہوئی۔ تو اس نے بستر پر سیدھا لیٹ کر شلوار کے اوپر سے اپنی چوت سہلاتے ہوئے کہا۔

ادھر دوسری طرف سمیر ابھی تک امی کی چوت کو چاٹنے میں مصروف تھا۔ کہ اس دوران امی سمیر کی گرم اور لمبی زبان کے مزے سے بہال ہوتے ہوئے چلا اٹھیں۔ "اف سمیر اب بس کرو اور میری پھدی میں اپنا لن ڈال کر مجھے دوبارہ سے سہاگن بنا دو میرے سرتاج"

"ہائے میں تو یہ ہی چاہتا تھا، کہ آپ مجھے خود بول کر چودنے کا کہو میری جان"

سمیر نے کچھ دیر مزید مزے سے چوت چاٹتے اور امی کو جنسی مزے کی نئی بلندیوں پر پہنچانے کے بعد سمیر نے امی کی چوت سے اپنا منہ ہٹا کر بستر سے اٹھا کھڑا ہوا اور اپنے کپڑے اتارنے لگا۔

سمیر اپنی شرٹ اور پینٹ اتار کر جونہی امی کے سامنے کمرے میں ننگا ہوا۔

تو اس کے گدھے جیسے موٹے لمبے سخت کھڑے ہوئے لوڑے کو اپنے سامنے ننگا دیکھ کر نہ صرف کمرے میں موجود امی کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں۔

بلکہ میرے ساتھ کمرے میں لیٹی میری اپنی بیوی فوزیہ کا منہ بھی حیرت سے کھل گیا۔ اور فوزیہ کے منہ سے ایک دم نکلا "ہائے میں مر گئی، کتنا شاندار لن ہے سمیر کا" اور اس کے ساتھ ہی فوزیہ سمیر کے لوڑے کو دیکھ کر اپنی چوت میں تیزی سے انگلی کرنے لگی۔

ادھر دوسری طرف کمرے میں امی کی آنکھیں بھی سمیر کے موٹے تگڑے جوان لوڑے کو دیکھ کر کھلی کی کھلی رہ گئیں۔

مگر اس کے ساتھ ہی امی کی نظر سمیر کے لن کے موٹے ٹوپے پر پڑی۔ تو سمیر کی بنا سنتوں والے ان کٹ چمڑی والے لوڑے کو دیکھ کر ایک دم بولیں۔ "یہ کیا؟ تمہارے گھر والوں نے تمہاری سنتیں نہیں کروائی تھیں کیا سمیر
"
"نہیں ہم لوگ مسلم لوگوں کی طرح لن کے آگے والی چمڑی کاٹ کر ختنے نہیں کرتے" امی کی بات کا جواب دیتے ہوئے سمیر نے اپنے پتھر کی طرح سخت لوڑے پر ہاتھ پھیرا۔

اور بستر پر آ کر امی کی کھلی ٹانگوں کے درمیان موجود امی کی پانی پانی ہوئی گرم چوت کے عین اوپر اپنے لن کو رکھ دی
Like Reply


Messages In This Thread
ہندو لن کی پیاس - by pajal20 - 21-03-2026, 07:01 PM
RE: ہندو لن کی پیاس - by pajal20 - 21-03-2026, 07:04 PM
RE: ہندو لن کی پیاس - by pajal20 - 22-03-2026, 12:53 AM
RE: ہندو لن کی پیاس - by pajal20 - 22-03-2026, 07:00 PM
RE: ہندو لن کی پیاس - by pajal20 - 22-03-2026, 07:30 PM
RE: ہندو لن کی پیاس - by pajal20 - 22-03-2026, 07:44 PM
RE: ہندو لن کی پیاس - by pajal20 - 22-03-2026, 09:42 PM
RE: ہندو لن کی پیاس - by pajal20 - 22-03-2026, 09:55 PM
RE: ہندو لن کی پیاس - by pajal20 - 23-03-2026, 12:59 AM
RE: ہندو لن کی پیاس - by pajal20 - 28-03-2026, 11:21 PM
RE: ہندو لن کی پیاس - by pajal20 - 29-03-2026, 12:51 AM
RE: ہندو لن کی پیاس - by pajal20 - 06-04-2026, 06:34 AM
RE: ہندو لن کی پیاس - by pajal20 - 06-04-2026, 06:35 AM
RE: ہندو لن کی پیاس - by pajal20 - 06-04-2026, 06:37 AM
RE: ہندو لن کی پیاس - by jackybobby - 07-05-2026, 11:24 AM



Users browsing this thread: 1 Guest(s)