29-03-2026, 12:51 AM
جب میں نے امی کی یہ حالت دیکھی۔ تو فوزیہ کو دیکھتے ہوئے کہا "میری سمیر سے بات ہو گئی اور وہ نیکسٹ سنڈے کو امی سے نکاح کرنے آ رہا ہے۔ اور نکاح کے بعد وہ ہمارے گھر میں ہی رہے گا۔
اس لیے فوزیہ تم امی کے کمرے کو صاف کر لینا اور میں امی کی سہاگ کی سیج سجانے کی تیاری کرتا ہوں۔ یہ بات کر کے میں کمرے سے باہر نکل آیا۔
نیکسٹ کچھ دن امی، فوزیہ اور میں نے امی کی شادی کی تیاری میں گزار دیے۔
اس دوران فوزیہ نے سمیر کا بھیجا ہوا لہنگا اور چولی امی کو پہنا کر اس کی سائز اور فٹنگ چیک کی۔ اور ساتھ ہی ساتھ امی کا فیشل کروایا اور ان کے بال ہائی لائٹ کروائے۔
جب کہ میں نے ایک کیمرا انسٹال کرنے والے بندے کو بلا کر اپنی امی کے کمرے کے بیڈ کے عین اوپر اور چاروں کونوں اور باتھ روم میں ایسے خفیہ کیمرے لگوا لیے۔
جس سے میں اپنے کمرے میں بیٹھ کر سمیر اور امی کی سہاگ رات کا سب منظر پورا دیکھ اور ان کی سب بات چیت سن سکتا تھا۔
پھر سنڈے والے دن میں نے شادی پر ڈیکوریشن کرنے والے دو لوگوں کو بلا کر امی کے کمرے اور بیڈ کو گلاب کے پھولوں سے سجا دیا۔
اسی شام کو سمیر بھی ایمریٹس ایئر لائن کی فلائٹ سے دبئی سے پاکستان آیا۔ تو میں اس کو لینے اسلام آباد ایئرپورٹ پہنچ گیا۔
جب میری سمیر سے پہلی ان پرسن ملاقات ہوئی۔ تو اس کا اونچا لمبا قد اور اس کی سمارٹنس اور کسے ہوئے جوان جسم کو دیکھ کر میں بہت خوش ہوا۔ کہ اپنی میچور امی کی چدائی کے لیے اس جوان لڑکے کا میرا انتخاب صحیح ہے۔ اور سمیر ہی وہ جوان مرد ہے۔ جس کے ان کٹ لوڑے سے چدوا کر میری امی کی بیوہ پیاسی چوت ایک بار پھر سے آباد ہو جائے گی۔
میں نے ایئرپورٹ سے فوزیہ کو فون کیا اور اسے امی کو نکاح کے لیے تیار کرنے کا کہا اور ساتھ ہی مولوی صاحب کو فون کر کے اپنے گھر پہنچنے کا بول دیا۔ پھر میں نے ٹیکسی لی اور سمیر کے ساتھ گھر کی طرف روانہ ہو گیا۔
راستے میں میں نے سمیر کو اس کا فیک پاکستانی آئی ڈی کارڈ دیا۔ جس پر سمیر کا جعلی نام سمیر خان ولد اعجاز احمد اور ایڈریس کراچی کا لکھا ہوا تھا۔
گھر پہنچے تو مولوی صاحب دو گواہوں کے ساتھ پہلے سے موجود تھے۔
نکاح کے پیپرز فل کرنے کے بعد میں مولوی صاحب کے ساتھ امی والے روم میں نکاح کے لیے تیار بیٹھی اپنی امی کے پاس لے گیا۔امی اس وقت سہاگ کی سجی سیج کے ساتھ پڑے صوفے پر فوزیہ کے ساتھ بیٹھی تھیں۔ اور انہوں نے اپنے چہرے اور جسم کو چادر سے اس طرح ڈھانپا ہوا تھا. کہ ان کے صرف ہاتھ ہی نظر آ رہے تھے۔
مولوی نے سمیر کے ساتھ نکاح کے لیے امی کی رضامندی پوچھی اور امی کی ہاں سننے کے بعد دوبارہ ڈرائنگ روم میں آ کر سمیر کا نکاح امی سے پڑھوا دیا۔
اس لیے فوزیہ تم امی کے کمرے کو صاف کر لینا اور میں امی کی سہاگ کی سیج سجانے کی تیاری کرتا ہوں۔ یہ بات کر کے میں کمرے سے باہر نکل آیا۔
نیکسٹ کچھ دن امی، فوزیہ اور میں نے امی کی شادی کی تیاری میں گزار دیے۔
اس دوران فوزیہ نے سمیر کا بھیجا ہوا لہنگا اور چولی امی کو پہنا کر اس کی سائز اور فٹنگ چیک کی۔ اور ساتھ ہی ساتھ امی کا فیشل کروایا اور ان کے بال ہائی لائٹ کروائے۔
جب کہ میں نے ایک کیمرا انسٹال کرنے والے بندے کو بلا کر اپنی امی کے کمرے کے بیڈ کے عین اوپر اور چاروں کونوں اور باتھ روم میں ایسے خفیہ کیمرے لگوا لیے۔
جس سے میں اپنے کمرے میں بیٹھ کر سمیر اور امی کی سہاگ رات کا سب منظر پورا دیکھ اور ان کی سب بات چیت سن سکتا تھا۔
پھر سنڈے والے دن میں نے شادی پر ڈیکوریشن کرنے والے دو لوگوں کو بلا کر امی کے کمرے اور بیڈ کو گلاب کے پھولوں سے سجا دیا۔
اسی شام کو سمیر بھی ایمریٹس ایئر لائن کی فلائٹ سے دبئی سے پاکستان آیا۔ تو میں اس کو لینے اسلام آباد ایئرپورٹ پہنچ گیا۔
جب میری سمیر سے پہلی ان پرسن ملاقات ہوئی۔ تو اس کا اونچا لمبا قد اور اس کی سمارٹنس اور کسے ہوئے جوان جسم کو دیکھ کر میں بہت خوش ہوا۔ کہ اپنی میچور امی کی چدائی کے لیے اس جوان لڑکے کا میرا انتخاب صحیح ہے۔ اور سمیر ہی وہ جوان مرد ہے۔ جس کے ان کٹ لوڑے سے چدوا کر میری امی کی بیوہ پیاسی چوت ایک بار پھر سے آباد ہو جائے گی۔
میں نے ایئرپورٹ سے فوزیہ کو فون کیا اور اسے امی کو نکاح کے لیے تیار کرنے کا کہا اور ساتھ ہی مولوی صاحب کو فون کر کے اپنے گھر پہنچنے کا بول دیا۔ پھر میں نے ٹیکسی لی اور سمیر کے ساتھ گھر کی طرف روانہ ہو گیا۔
راستے میں میں نے سمیر کو اس کا فیک پاکستانی آئی ڈی کارڈ دیا۔ جس پر سمیر کا جعلی نام سمیر خان ولد اعجاز احمد اور ایڈریس کراچی کا لکھا ہوا تھا۔
گھر پہنچے تو مولوی صاحب دو گواہوں کے ساتھ پہلے سے موجود تھے۔
نکاح کے پیپرز فل کرنے کے بعد میں مولوی صاحب کے ساتھ امی والے روم میں نکاح کے لیے تیار بیٹھی اپنی امی کے پاس لے گیا۔امی اس وقت سہاگ کی سجی سیج کے ساتھ پڑے صوفے پر فوزیہ کے ساتھ بیٹھی تھیں۔ اور انہوں نے اپنے چہرے اور جسم کو چادر سے اس طرح ڈھانپا ہوا تھا. کہ ان کے صرف ہاتھ ہی نظر آ رہے تھے۔
مولوی نے سمیر کے ساتھ نکاح کے لیے امی کی رضامندی پوچھی اور امی کی ہاں سننے کے بعد دوبارہ ڈرائنگ روم میں آ کر سمیر کا نکاح امی سے پڑھوا دیا۔
