22-03-2026, 09:55 PM
س واقعہ کے دو تین بعد سمیر نے اپنا فون آف ہی رکھا. اور امی سے فون پر کوئی بات نہیں کی
جب کہ ان تین دنوں میں سمیر کا موٹا لمبا جوان لوڑا بار بار ہر امی کے خوابوں خیالوں میں آ کر امی کی چوت کی گرمی کو بڑھاتا رہا. جس کی وجہ سے امی بے تابی سے سمیر کی کال کا ویٹ کرتی رہیں. مگر سمیر کا فون نہ آیا
چوتھے دن رات کو اپنے روم میں آتے ہی. امی نے سمیر کو کال ملا دی. جوں ہی سمیرنے فون اٹھایا تو امی نے فوراً پوچھا "کدھر غائب ہو تم
بس ادھر ہی ہوں" سمیر نے جان بوجھ کر تھوڑا ہلکا سا رسپانس دیا
تو فون کیوں نہیں کیا" سمیر کے جواب کو سنتے ہی امی نے پوچھا
بس اس دن اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکا اور آپ کو اپنی ننگی فوٹو بھیج دی، اسی شرمندگی کی وجہ سے فون نہیں کیا" سمیر نے جان بوجھ کر بہانہ بناتے ہوئے جواب دیا
"چلو تمہیں اپنی غلطی کا احساس ہوا تو اچھی بات ہے" امی نے سمیر کی بات کے جواب دیتے ہوئے کہا
وہ تو ٹھیک ہے، مگر سچ بات یہ ہے کہ آپ کے اس دن کے نیم عریانی حسن کو دیکھ کر، نہ صرف میری راتوں کی نیند اڑ چکی ہے، بلکہ میرا دل چاہ رہا کہ آپ سے شادی کر کے آپ کو اپنی دلہن بنا لوں رخسانہ بیگم" امی کی بات کے جواب میں سمیر نے ایک دم سے یہ بات کہی. تو سمیر کی بات سنتے ہی امی کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا
"تم ہوش میں تو ہو، تمہیں پتا ہے کہ تم کیا بات کر رہے ہو، میں تمہاری ماں کی عمر کے برابر ایک بیوہ عورت ہوں، جس کی اپنی اولاد تم سے بڑی عمر کی ہے، اور تم مجھے ادھیڑ عمر بیوہ سے شادی کے سپنے دیکھ رہے ہو" سمیر کی بات سن کر اپنی کو شاک سا لگا. اور اس نے جلدی سے جواب دیا
آپ کے اس بھرپور جسم اور گداز مموں نے واقعی ہی میرے ہوش و حواس اڑا دیے ہیں اور میں آپ کے عشق میں پاگل ہوا جا رہا ہوں، پچھلے تین دن سے میرا لن آپ کی گرم جسم کے لیے پاگل ہو کر ٹکریں مار رہا ہے، اس لیے میں آپ سے شادی کرنا چاہتا ہوں، اور سہاگ رات منا کر نہ صرف آپ کی بیوگی دور کرنا چاہتا ہوں، بلکہ آپ کے لیے ہیرے ہوئے اپنے لن کی گرمی بھی دور کرنا چاہ رہا ہوں" امی کی بات کے جواب میں سمیر نے کھلے دل سے اپنی بات امی کے سامنے بیان کر دی
سمیر کی یوں کھلے انداز میں شادی اور سہاگ رات منا کر ان کی بیوگی دور کرنے اپنے لن کی پیاس بجھانے کی بات سن کر امی سوچ میں پڑ گئیں
اصل میں حقیقت یہ ہی تھی. کہ جس طرح فیس بک
پر امی کی فوٹو اور ان کے موٹے ممے دیکھ کر سمیر ان کا دیوانہ بنا تھا
اسی طرح سمیر کے موٹے لمبے جوان لن کے جلوے نے امی کی چوت میں بھی ہلچل مچا دی تھی
اس لیے امی کو سمیر کی ان کے ساتھ سہاگ رات منا کر انہیں اپنے سخت جوان لن سے چودنے کی بات سن کر پھر سے اپنی چوت میں گرمی محسوس ہونے لگی
اور بولیں "تمہاری شادی کی آفر پر میں تمہیں سوچ کر ایک دو دن میں جواب دوں گی" یہ بات کہہ کر امی نے فون بند کر دیا
میں اور فوزیہ نے سمیر کی امی کے درمیان ہونے والی آج تک کی ساری کنورسیشن گروپ کال میں سنی تھی. اس لیے امی کے فون بند کرتے ہی فوزیہ نے شلوار میں میرے ہڑے لن کو ہاتھ میں پکڑا اور مٹھ لگاتے ہوئے بولی "لو جی آج تمہاری امی کی بیوہ چوت کے ایک جوان ہندو مرد کا رشتہ آیا ہے،"اور اب مجھے یقین ہے کہ میری ساس اس رشتے کو قبول کر کے اپنی پاکیزہ چوت اس ہندو لن سے پھروائے گی، تو یوں پھر جلد ہی میری چوت کو بھی ایسا ہی کوئی موٹا لمبا ہندو لورا چدوانے کے لیے نصیب ہو جائے گا” میرے لن کی مٹھ لگتے میری بیوی فوزیہ نے یہ بات کہی. تو اپنی امی اور بیوی کی پاکیزہ پھدیوں میں ہندو مردوں کے ان کٹ کافر لوروں کو جانے کا سوچ کر میں مزے سے سسکارنے لگا


![[+]](https://xossipy.com/themes/sharepoint/collapse_collapsed.png)